ہاتھیوں کے لشکر کا واقعہ (سورۃ الفيل)

   

جانئے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے چھوٹے پرندوں کے ذریعے ایک طاقتور لشکر سے خانہ کعبہ کی حفاظت فرمائی ! یہ سورۃ الفيل سے ماخوذ ایمان اور ربانی طاقت کی ایک عظیم کہانی ہے۔ یہ کہانی ہے ابرہہ کی جو لالچی بادشاہ تھا جس نے کعبہ ( مکہ میں واقع اللہ کا مقدس گھر) پر حملہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے آسمان سے ابابیل پرندوں کے غول کے غول (غول یعنی جھنڈ ،پرندوں کے گروہ ) بھیج دیئے۔
یمن کے حکمران ابرہہ کو کعبہ کی اہمیت سے حسد ہونے لگا۔ جب کہ پورے جزیرہ نما عرب سے زائرین اللہ کی عبادت کے لئے مکہ کا سفر کرتے تھے، ابرہہ چاہتا تھا کہ وہ اس کے بجائے اس کے عظیم الشان مندر میں آئیں۔ اس نے پتھر سے ہاتھیوں کے مجسمے تراشے اور دعویٰ کیا کہ اس کا مندر کعبہ سے زیادہ عظیم ہے۔
ابرہہ نے ایک بہت بڑی فوج اکٹھی کی، جس میں محمود نامی ایک دیوہیکل ہاتھی بھی شامل تھا۔ جب انہوں نے مکہ کی جانب مارچ کیا، تو راستے میں بستیاں تباہ کیں اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ اس نازک وقت میں قریش کےقبیلے نے دعا کی’’ اے اللہ ! اپنے گھر کی حفاظت فرما‘‘ ۔
جب ابرہہ کی فوج مکہ پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے ابابیل پرندوں کے غول کے غول بھیج دیئے ۔ ہر پرندے نے اپنی چونچ اور پنجوں میں چھوٹی چھوٹی کنکریاں پکڑ رکھی تھیں۔ انہوں نے یہ کنکریاں ابرہہ کی فوج پر برسائیں جنہوں نے ان کی زرہوں کو چھید دیا اور اُنہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کر دیا۔ محمود نامی ہاتھی نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا، اور ابرہہ، جس کا جسم زخموں سے چور تھا، ذلت و رسوائی کے ساتھ وہاں سے فرار ہو گیا۔خانہ کعبہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، اور مکہ کے لوگوں نے اللہ کی قدرت کا جشن منایا۔
آج بھی، مسلمان سورۃ الفيل کی تلاوت کرتے ہیں تاکہ یہ یاد رکھ سکیں کہ کوئی بھی دنیاوی طاقت اللہ کی تدبیر کو شکست نہیں دے سکتی۔
اللہ رب العزت فرماتا ہے : ’’کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ کیا اس نے ان کی تدبیر کو بیکار نہیں کر دیا؟ اور ان پر غول کے غول پرندے بھیجے ، جو ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر مارتے تھے‘‘۔
ہمیں یہ سورت غور و فکرکی دعوت دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بڑے ہاتھیوں کو شکست دینے کے لیے پرندوں جیسی چھوٹی مخلوق کا انتخاب کیوں کیا؟ اور یہ واقعہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟