ہتھیار ڈالنے کے مطالبات ناقابلِ قبول : حماس

   

یروشلم ۔ 6 اپریل (ایجنسیز) حماس کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ تنظیم کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے مطالبات دراصل اسرائیل کی جاری نسل کشی کو طول دینے کے مترادف ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق حماس کے مسلح ونگ نے گروہ کے غیر مسلح ہونے کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک اسرائیل غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے پر مکمل عملدرآمد نہیں کرتا، اس سے قبل اس معاملہ پر بات چیت کرنا فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کو جاری رکھنے کی کوشش کے برابر ہے۔ گزشتہ روز ایک بیان میں حماس کے مسلح ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا کہ ہتھیاروں کے معاملہ کو بھونڈے انداز میں اٹھانا قابلِ قبول نہیں ہو گا۔ واضح رہے کہ غزہ کے حوالے سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا مقصد اسرائیل کی جنگ کا خاتمہ ہے، جس پر عملدرآمد کے لیے جاری مذاکرات میں حماس کے ہتھیار ڈالنے کا مسئلہ ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق اکتوبر سے امریکہ اور قطر کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں میں 705 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ E؍ F