نیویارک : اقوا متحدہ نے ایک ایسا خود مختار کمیشن قائم کرنے کے لیے قرارداد منظور کر لی ہے، جو ان ہزارہا شامی شہریوں کا کھوج لگائے گا جو وہاں جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک لاپتہ ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرف سے یہ فیصلہ لاپتہ افراد کے خاندانوں اور انسانی حقوق کے گروپوں کے مطالبات کے تناظر میں کیا گیا۔ اس حوالے سے پیش کردہ قرارداد کے حق میں 83 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 11 نے اس کی مخالفت کی۔ 62 ممالک نے اپنا ووٹ کا حق استعمال نہ کیا۔ جن ممالک نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا، ان میں شام بھی شامل ہے جس کا کہنا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کے اس ادارے کے ساتھ تعاون نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ اس قرارداد کی مخالفت کرنے والوں میں روس، چین، شمالی کوریا، وینزویلا، کیوبا اور ایران شامل تھے۔ یہ قرارداد لکسمبرگ کی طرف سے پیش کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ شام میں 12 سالہ لڑائی کے دوران لاپتہ ہوجانے والے تمام افراد اور ان کی قسمت کے بارے میں جوابات فراہم کر کے ایسے خاندانوں کی اذیت دور کرنے کی کوششوں میں اب تک بہت ہی کم کامیابی ہوئی ہے۔ اس قرارداد کے مطابق شامی عرب جمہوریہ میں لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ایک خود مختار ادارہ قائم کیا جائے گا۔
سوشل میڈیا احتجاج میں اضافہ کا ذمہ دار : میکرون
پیرس : فرانس کے صدر امینیول میکرون نے کہا ہے کہ احتجاج میں اضافہ سوشل میڈیا کی وجہ سے ہوا۔ صدر نے سوشل میڈیا سائٹس سے اپنے پلیٹ فارم پر موجود تمام حساس نوعیت کے وڈیوز ہٹانے کا مطالبہ کردیا۔ فرانس میں ہنگامی صورتحال کے باعث صدر میکروں برسلز سمٹ میں شرکت کیے بغیر وطن روانہ ہوگئے۔ ادھر فرانسیسی سرکار نے ملک میں بڑا کریک ڈاؤن کرکے احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 917 افراد کو گرفتار کرلیا۔