واشنگٹن: 16جولائی (یواین آئی ) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے اپنی زمینی فوج نہیں بھیجے گا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اسرائیلی کابینہ کے کچھ وزراء جنگ کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔امریکی نائب صدر نے کہا کہ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی طاقت کو انتہائی مہارت کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں اور واشنگٹن ایران کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوجی قوت کو بطور آلہ استعمال کر رہا ہے۔ وینس نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کے نتیجہ میں دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپوں کے بعد امریکہ ایران کے ساتھ انتہائی حساس سفارتی راستے پر گامزن ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی حکومت کے اندر موجود کچھ عناصر ایران کے ساتھ مذاکرات کو ناکام بنانے اور فوجی مہم کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کیلئے امریکی رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔دی جو روگن ایکسپیرینس پروگرام کے ساتھ انٹرویو میں جے ڈی وینس نے اس بات کی تردید کی کہ ٹرمپ نے اسرائیلی دباؤ میں آ کر ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے یا اسے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ واشنگٹن دو اہم مقاصد کے حصول کے لیے عسکری دباؤ اور مذاکرات کو یکجا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جن میں تہران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنانا شامل ہے۔ادھر امریکہ نے بدھ کے روز ایسے افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کر دیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ایران کو اسلحہ حاصل کرنے میں مدد دینے والے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے کہا کہ پابندیوں کا ہدف ایرانی اور روسی شہری، نیز ایران، روس اور نائیجیریا میں قائم ادارے ہیں۔یہ پیش رفت امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ایران کے خلاف 90 منٹ تک جاری رہنے والی نئی فضائی کارروائیوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ سینٹرل کمانڈ نے اشارہ دیا کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی ان عسکری صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے جو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔