نئی دہلی : ملک میں ہم جنس جوڑے اپنی شادی تسلیم کروانے کے لیے قانونی لڑائی لڑ رہے ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی عدالت ایسی شادیوں کو قانونی طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ سنا سکتی ہے۔ دو سال قبل ابھے ڈنگ اور شپریو چکرابورتی کی شادی کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ اس ہم جنس پسند جوڑے کی شادی قانونی طور پر تسلیم نہیں کی گئی تھی، تاہم کہا جا رہا ہے کہ جلد ہی ملک میںایسی شادیوں کو قانونی تحفظ حاصل ہو جائے گا۔ پانچ برس قبل عدالت نے ہم جنس سیکس کو جرم سمجھنے کی ممانعت کی تھی اور پیر کے روز سے سپریم کورٹ ہم جنس شادیوں کو قانونی طور پر تسلیم کیے جانے کے مقدمے کی سماعت شروع کر رہی ہے۔ ملک میں ہم جنس جوڑے عدالت سے چاہتے ہیں کہ وہ مرد اور عورت کے درمیان شادی کی طرح ہم جنس شادیوں کو بھی قانونی طور پر تسلیم کرنے کا حکم دے۔ جنوبی ہندکے شہر حیدرآباد میں سوفٹ ویئر مینیجر کے بہ طور کام کرنے والے ڈنگ نے کہا، ”شادی کے رشتے سے جو بھی حقوق ملتے ہیں، جو ہیٹرو سیکچوئل (مرد اور عورت) جوڑوں کے لیے عام سی بات ہیں، وہ ہمیں یعنی ہم جنس جوڑوں کو بھی ملنے چاہئیں کیوں کہ اب تک ہمیں وہ حقوق حاصل نہیں۔