حق اور انصاف کیلئے دیگر برادران وطن کو آواز اٹھانے کی اپیل، افمی کنونشن میں دانشوروںکا خطاب
شکاگو ۔ 30اکٹوبر (پریس نوٹ) ڈاکٹر محمد قطب الدین صدر امریکن فیڈریشن آف مسلمس آف انڈین اوریجن نے کہا کہ ہندوستانی سیاست میں انتہاء پسندی اور مذہبی جنونیت کا مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر منفی اثر ہوا ہے۔ خوف، دہشت، عدم تحفظ کا ماحول پیدا ہوا ہے۔ ڈاکٹر قطب الدین فیڈریشن کے 32 ویں سالانہ کنونشن سے مخاطب تھے جو شکاگو کے مضافاتی علاقہ بینسن ولے میں ماؤنٹی ایلچنٹ بینکویٹس میں منعقد ہوا۔ کوویڈ۔19 کی وجہ سے 2020ء اور 2021ء میں ورچول کنونشن کے بعد اس سال اس کا احیاء عمل میں آیا۔ اس سال کنونشن کا مرکزی خیال کا موضوع ’’ہماری داستانیں، ہمارا مستقبل‘‘ تھا۔ مقررین نے ہندوستانیوں سے اپیل کی کہ وہ انصاف اور مساوات پر مبنی معاشرہ تشکیل دیں۔ ڈاکٹر قطب الدین نے فیڈریشن کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ فیڈریشن تمام ہندوستانی مسلمانوں کیلئے تعلیم کا حصول یقینی بنانے کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کیلئے فیڈریشن نے ہندوستان کے کئی مواضعات میں 33 سال کے دوران اسکولس قائم کئے۔ کئی اسکولس کی کفالت قبول کی جس سے ہزاروں طلباء فیضیاب ہوئے۔ ہاسپٹلس قائم کئے۔ میڈیکل کیمپس کا اہتمام کیا۔ بازآبادکاری کے اقدامات کئے۔ خدمت اور راحت رسانی کو یقینی بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کنونشن کا اصل مقصد امریکہ میں مقیم ہندوستانی مسلمانوں کو ایکد وسرے سے قریب لانا ہے تاکہ مشترکہ طور پر تعمیری اور ترقیاتی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔ فیڈریشن کا قیام 1989ء میں عمل میں لایا گیا۔ ہر سال اکٹوبر میں ایک کنونشن امریکہ میں اور ڈسمبر میں ایک کنونشن ہندوستان میں منعقد ہوتا ہے۔ صحافت کا فروغ، تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا اور اعلیٰ مقاصد کی تکمیل کے خواہشمند طلباء کی سرپرستی کنونشن کے مقاصد میں شامل ہے۔ اس سال کنونشن میں مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ صالح بصیر نے انگریز سمراجیت سے پہلے ہندوستان میں مسلم دانشوروں کی تاریخ پر سیر حاصل خطاب کیا۔ آمنہ اقبال، ڈاکٹر عمران خان اور ماہین احمد نے اسلاموفوبیا اور ہندوستان اور امریکہ میں اس کے اثرات جیسے موضوعات پر خطاب کیا۔ کنونشن میں نامور شخصیات کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈس پیش کئے گئے۔ ان میں اظہار عثمان، ٹی سونداراجن، رومانہ حسین، شیخ نعمان، روچیرا گپتا اور وزیرخارجہ جیسے وائیٹ، رکن پارلیمان ڈیلیا ریمیریز، راجندر سنگھ ماکو، خواجہ معین الدین، اسد خان شامل ہیں۔ ثناء قطب الدین نے ہندوستان میں اقلیتوں کو درپیش چیالنجس پر روشنی ڈالی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں اور اس مقصد کیلئے تمام پرامن وسائل کا استعمال کریں۔ دنیا کے مختلف ممالک سے ویڈیو لنک کے ذریعہ اہم شخصیات نے خطاب کیا جبکہ 300 سے زائد مہمانوں اور مندوبین نے اس کنونشن میں شرکت کی۔