ہندوستانی نئی زعفرانی جرسی پر سابق کپتان ویرین رسکنہا کا اعتراض

   

نئی دہلی30 جولائی (آئی اے این ایس) ہندوستانی سابق ہاکی کپتان ویرین رسکنہا نے 2026 ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ کے لیے ہاکی انڈیا کی جانب سے مرد و خواتین ٹیموں کی نئی زعفرانی جرسی متعارف کروانے کے فیصلے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ٹیم کی تاریخی شناخت کے خلاف ہے۔ رسکنہا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ہاکی انڈیا نے کھیل کی ترقی کے لیے کئی اچھے اقدامات کیے ہیں، لیکن روایتی نیلی جرسی کو تبدیل کرنا مایوس کن فیصلہ ہے۔ ان کے مطابق ہندوستانی ہاکی ٹیم کی پہچان ہمیشہ نیلی جرسی رہی ہے اور شائقین بھی اپنی ٹیم کو اسی رنگ میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہندوستانی ٹیم کی میراث اور شناخت ہمیشہ نیلی رہی ہے۔ میں نے کئی برس فخر کے ساتھ نیلی جرسی پہن کر ملک کی نمائندگی کی۔ شائقین اپنی ٹیم کو نیلی جرسی میں دیکھنا چاہتے ہیں، پھر زعفرانی رنگ کی منطق کیا ہے؟ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب ہاکی انڈیا نے ورلڈ کپ کے لیے نئی جرسی کی رونمائی کی، جس میں پہلی مرتبہ روایتی نیلے رنگ کی جگہ زعفرانی رنگ کو نمایاں حیثیت دی گئی ہے۔ ہاکی انڈیا کے مطابق نئی جرسی میں زعفرانی رنگ بہادری، قربانی اور فتح کی علامت ہے، جبکہ اس کا تصور قومی پرچم اور طلوع ہوتے سورج سے لیا گیا ہے۔ جرسی پر اشوک چکر سے متاثر گہرے نیلے رنگ کی جھلکیاں، سدرشن چکر کی جدید علامت، ہندوستانی ثقافت کی عکاسی کرنے والے منڈالا طرز کے ڈیزائن، کندھوں پر ترنگے کی پٹیاں اور دیوناگری رسم الخط میں انڈیا بھی درج کیا گیا ہے۔ ہاکی انڈیا کا کہنا ہے کہ یہ ڈیزائن ایک بھارت، شریشٹھ بھارت کے تصور کی نمائندگی کرتا ہے۔ دوسری جانب ٹیم کے ہیڈ کوچ کریگ فلٹن کی نگرانی میں ہندوستانی ٹیم ورلڈ کپ کی تیاریوں کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ٹیم نے حال ہی میں سوئٹزرلینڈ میں معروف کوچ پیڈی اپٹن کی زیر نگرانی تین روزہ ذہنی تربیتی کیمپ مکمل کیا، جبکہ کپتان ہرمن پریت سنگھ کی قیادت میں مکمل طاقت کے ساتھ ورلڈکپ میں اترنے کی تیاری کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ ہندوستان نے اب تک صرف 1975 میں مردوں کا ہاکی ورلڈکپ جیتا تھا، اور ٹیم اس بار51 سال بعد دوبارہ عالمی خطاب اپنے نام کرنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اترے گی۔