کورونا وائرس کے مریضوں میں روزبروز اضافہ ، مزید بداحتیاطی پر حالات خراب ہونے کا امکان
حیدرآباد۔23ڈسمبر(سیاست نیوز) ملک ایک اور لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہے۔ اگر کورونا وائر س کے مریضوں کی تعداد میں اسی رفتار سے اضافہ ہوتا ہے اور لوگوں کی جانب سے احتیاط کے بجائے لاپرواہی کی جاتی ہے تو اس کے سنگین معاشی حالات پیدا ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ ہندستانی معیشت میں لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعد اب بہتری پیدا ہونے لگی ہے لیکن گذشتہ ماہ کے اواخر سے اومی کرون کے مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کے سبب صورتحال ابتر ہوتی نظر آرہی ہے اور ملک کی مختلف ریاستوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ کے علاوہ شہریوں کی جانب سے لاپرواہی کی اطلاعات موصول ہونے لگی ہیں جو کہ تشویشناک ہے۔ کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران کورونا وائرس کے مریضوں کو ڈیلٹا نے متاثر کیا تھا جبکہ اس مرتبہ اومی کرون متاثر کررہا ہے ۔ عالمی سطح پر ماہرین نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ ڈیلٹا سے 3.5 گنا زیادہ رفتار سے اومی کرون دوسروں کو متاثر کرسکتا ہے اور اسی لئے سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔ عالمی سطح پر ماہرین نے اومی کرون سے احتیاط کے لئے ٹیکہ کے حصول کے علاوہ ماسک کے لزوم اور سماجی فاصلہ کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے لیکن اس کے باوجود ان پر عمل نہیں کیا جا رہاہے ۔ ہندستانی ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ ماہرین طب اور وائرولوجی کی جانب سے کہا جا رہاہے کہ ماہ فروری کے دوران تیسری لہر عروج پر ہوگی تو ایسے میں شہریوں کو ان حالات سے محفوظ رہنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر ہندستان میں ایک اور لاک ڈاؤن کی نوبت آتی ہے تو ایسی صورت میں معیشت کا برا حال ہوجائے گا اور آئندہ برسوں کے دوران جو ترقی کا نشانہ رکھا گیا تھا اس کا حصول نا ممکن ہوجائے گا۔ ہندستان میں عوامی لا پرواہی یا حکومت کی سطح پر نظرانداز کی پالیسی کی صورت میں معیشت کی جو تباہی ہوگی اس سے نمٹنا شہریوں بالخصوص متوسط طبقہ کے لئے انتہائی مشکل ہوجائے گا کیونکہ گذشتہ دو برسوں کے دوران دو مرتبہ ہونے والے لاک ڈاؤن اور سخت تحدیدات کے سبب معیشت تباہ ہوچکی تھی اور اب لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعد بتدریج حالات میں بہتری آنے لگی تھی لیکن اومی کرون کے متعلق شہریوں کا لاپرواہی والا رویہ نہ صرف نظام صحت کی تباہی بلکہ ملک کی معیشت کی تباہی کا بھی سبب بن سکتا ہے اسی لئے ریاستی حکومتوں اور شہریوں کو بھی کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ لاک ڈاؤن سے بھی محفوظ رہنے کے لئے اقدامات کا حصہ بننا چاہئے ۔م