ہندوستان حماس پر پابندی نہیں لگائے گا: وزارت داخلہ

   

عرب ممالک سے تعلقات خراب ہونے کا خدشہ۔ حماس امریکہ اور جرمنی کیلئے دہشت گرد تنظیم

نئی دہلی:یہ بات ہندوستان میں اسرائیلی سفیر نور گیلن نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے بعد کہی۔ اس کے بعد سے دنیا بھر میں حماس کے خلاف کارروائی کے مطالبات اٹھ رہے ہیں۔ امریکہ اور جرمنی حماس کو دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں اور دونوں ممالک نے اس پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ہندوستان میں بھی حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے اور اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس پر ہندوستان کا کہنا ہے کہ وہ ابھی حماس پر پابندی نہیں لگائے گا۔وزارت داخلہ کے ذرائع نے ایک انگریزی نیوزچیانل کو ہندوستان کے اس اقدام کی وجہ بتائی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت حماس ہندوستان میں سرگرم نہیں، اس لیے اس پر پابندی لگانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر حکومت ایسا کرتی ہے تو اس سے عرب ممالک کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔ کسی بھی تنظیم پر پابندی لگانے کا فیصلہ وزارت داخلہ یو اے پی اے قانون کے تحت لیتی ہے۔فروری 2023 تک، یو اے پی اے کی فہرست میں 44 تنظیمیں شامل تھیں، جنہیں ہندوستان دہشت گرد تنظیموں میں شمار کرتا ہے۔ ہندوستان نے آخری بار 2015 میں داعش کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔ کسی تنظیم کو اس فہرست میں شامل کرنا ایک طویل عمل ہے۔عرب ممالک ہندوستان کو تیل فراہم کرنے والے بڑے ممالک ہیں۔ ہندوستان نے خلیج تعاون کونسل (کویت، قطر، سعودی عرب، بحرین، عمان اور یو اے ای) کے ساتھ 2020-21 میں $90 بلین کی تجارت کی۔ اس کے علاوہ ہندوستان کو اپنے غیر ملکی ذخائر کا بڑا حصہ یہاں سے ملتا ہے ۔ بیرون ملک سے ہندوستان میں پیسہ آنے میں خلیجی ممالک بھی آگے ہیں۔خلیجی ممالک کے بیان پر ہندوستان کے فوری طور پر سرگرم ہونے کی ایک وجہ بیرونی پیسہ بھی ہے۔ کورونا کی مدت سے پہلے، 2019-20 میں، خلیجی ممالک میں رہنے والے ہندوستانیوں نے ملک کو 6.38 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ بھیجے تھے۔