ہندوستان دنیا کی پانچویں بڑی معیشت

   

2027 تک 100 ملین ہندوستانی امیر ہوں گے: رپورٹ
نئی دہلی: ہندوستان دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن گیا ہے، جلد ہی ٹاپ 3 میں شامل ہو سکتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آج بھی ملک کی ایک بڑی آبادی غربت سے نیچے ہے۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ 140 کروڑ کی آبادی میں سے تقریباً 10 فیصد بھی انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے ہیں۔ دریں اثنا، گولڈمین سکس کی جاری کردہ رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ ملک میں امیروں کی تعداد 2027 تک یعنی اگلے چار سالوں میں 10 کروڑ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ہندوستان میں امیر لوگوں کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2027 تک ہندوستان میں کروڑ پتیوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوگا۔اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی کام کرنے والی تقریباً 4 فیصد آبادی کی فی کس آمدنی 8.25 لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔ اس کلب میں تقریباً 6 کروڑ لوگوں کے شامل ہونے کا اندازہ ہے۔ ٹیکس فائلنگ، بینک ڈپازٹس، کریڈٹ کارڈ ہولڈرز کی تعداد میں اضافہ اور براڈ بینڈ کنکشن کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ امیروں کا یہ کلب 2019 سے 2023 کے درمیان 12 فیصد سالانہ کی شرح سے ترقی کر چکا ہے۔اگر موجودہ صورتحال اسی طرح جاری رہی تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ 2027 تک یہ تعداد بڑھ کر 10 کروڑ ہو جائے گی۔ مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ملک کی آبادی کا ایک حصہ تیزی سے امیر بنے گا۔یہ نئے امیر پریمیم جیولری، مہنگی کاریں، مہنگے گھر، لگڑری آئٹمز، پریمیم ہیلتھ کیئر اور سفر پر باقی لوگوں سے 10 فیصد زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔ وہ ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کریڈٹ کارڈ استعمال کر رہے ہیں۔