ہندوستان میں اقلیتوں کے خلاف تشددکا سلسلہ جاری

   

کشمیر میڈیا سرویس کی رپورٹ

نئی دہلی :آزادی کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بھی ہندوستان انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں میں سرفہرست ہے، جہاں اقلیتوں اور خواتین کیخلاف جرائم کا سلسلہ جاری ہے۔کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے بعد سے کشمیر میں اب تک 22 ہزار سے زائد گرفتاریاں اور 1200 املاک نذرآتش کی گئی ہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں، عیسائیوں اور نچلی ذات کے ہندوؤں پر زمین تنگ ہے۔ 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجدکو شہید کر دیا تھا۔پچھلی دو دہائیوں سے اب تک ہندوستان میں تقریباً 500 سے زائد مساجد اور مزارات کو شہیدکیا جاچکا ہے۔25 اگست 2008 کو ہندو انتہا پسندوں نے بی جے پی کی زیرِ حکومت ریاست اڑیسہ کے ضلع کندھمال میں سینکڑوں عیسائیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔4 دن تک جاری رہنے والے فسادات میں 600 عیسائی گاؤں اور 400 سے زائد چرچ نذرِ آتش کیے گئے تھے۔صرف جنوری تا جون 2022 میں عیسائیوں کے خلاف 274 پرتشدد واقعات پیش آئے۔2023 میں ہندوستان کی 23 ریاستوں میں عیسائیوں کے خلاف 400 تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ہندوستان کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق گزشتہ 5 برسوں میں نچلی ذات کے ہندوؤں کے خلاف ڈھائی لاکھ سے زائد نفرت انگیز جرائم رپورٹ ہوئے۔صرف 2021 میں دلت ہندوؤں کے خلاف 60 ہزار سے زائد جرائم رپورٹ ہوئے۔2021 میں خواتین کے ساتھ زیادتی کے 4 لاکھ سے زائد مقدمات درج کیے گئے۔ہندوستان میں صحافت کا گلہ گھونٹنے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کا استعمال تشویش ناک حد تک بڑھ چکا ہے۔