ہندوستان میں اپنی مصنوعات کے امکانی بائیکاٹ پر چین پریشان

   

نئی دہلی ، 18 جون ( سیاست ڈاٹ کام) لداخ کی وادی گلوان میں چین کی غیرقانونی دراندازی اور ہندوستانی فوجی اہلکاروں کے ساتھ تنازعہ کے بعد ہندوستان میں وہاں کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی چوطرفہ آواز بلند ہونے سے چین کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے ہیں اور اس نے عالمی وبا کووڈ 19 کی دہائی دے کر اس سے پیدا ہوئے مواقع کا فائدہ اٹھانے کی اپیل کرنا شروع کر دی ہے ۔وادی گلوان میں 15-16 جون کی درمیانی شب کو ہونے والی جھڑپوں میں ایک کرنل سمیت 20 ہندوستانی فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔ چین کے بھی بڑی تعداد میں فوجی اہلکاروں کے مارے جانے کی رپورٹ ہے ، حالانکہ چین نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے ۔اس واقعہ کے بعد ہندوستان میں چین سے درآمد شدہ مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ روز پکڑنے لگا ہے ۔ بدھ کے روز چین کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور چینی سامان کی ہولی جلائی گئی ۔ اس کے بعد چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے ایک ٹویٹ کر کے کہا ‘‘سرحدی تنازعے کے بعد ہندوستان میں چین کا‘ بائیکاٹ ’کرنے کی آواز بلند ہوئی ہے ۔ سرحدی معاملے پر سرمایہ کاری اور تجارت کو بغیر غور وخوض کرنے کے جوڑنا منطقی دلائل نہیں ہے ۔ دونوں ممالک کو عالمی وبا کے سبب پیدا شدہ غیر یقینی صورتحال میں سامنے آئے اہم مواقع سے مستفید ہونے کی ضرورت ہے ’’۔ایک مزید ٹویٹ نے تجزیہ کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے مابین باہمی تعلقات معمول پر نہیں آئے تو تجارت اور کاروبار پر شدید اثر پڑ سکتا ہے ۔ اگر صورتحال واضح نہیں ہوئی تو دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارت کو بیس فیصد کے دھچکا لگ سکتا ہے ۔ہند- چین تجارت کے اعدادوشمار کے مطابق 2018-19ئمیں دونوں ممالک کے مابین دو طرفہ تجارت تقریبا 88 ارب ڈالر رہی تھی۔ ہندوستان کا تجارتی خسارہ تقریبا 52 ارب ڈالر رہا۔ گزشتہ کئی سالوں سے چین کے ساتھ مسلسل بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ہندوستان کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج رہا ہے ۔ تاہم چین کے بازار تک ہندوستان کی زیادہ رسائی اور امریکہ اور چین کے مابین جاری تجارتی جنگ کی وجہ سے ہندوستان سے چین کی برآمدات 18 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ، جو 2017-18ء میں 13 ارب ڈالر تھی۔ اس دوران چین سے ہندوستان کی درآمدات 76 ارب ڈالر سے کم ہوکر 70 ارب ڈالررہ گئی ۔