ہندوستان میں عیسائیوں کے ساتھ ظلم وزیادتیوں پر امریکی صحافی کی بھوک ہڑتال

,

   

ہندوستان میں عیسائیوں کے خلاف مظالم کے خلاف کیلی فورنیانژاد صحافی پیٹر فریڈریچ نے جمعرات کے روز سے سات روزہ کی بھوک ہڑتال شرو ع کی۔ ملک بھر میں عیسائیوں پر حملہ بالخصوص ریاست کرناٹک میں یہ شدت کے ساتھ کئے جارہے ہیں۔

فریڈ ریچ نے الزام لگایاہے کہ ہندوستان میں عیسائیوں کو مشکل سال کاسامنا ہے اور ساتھ میں گرجا گھروں‘ اسکولوں پر حملے اور جبری تبدیلی مذہب کے الزامات کا بھی انہیں سامنا کرنا پڑرہا ہے‘ ریاست کرناٹک بھر میں مخالف تبدیلی مذہب قانون کے نفاذ کے ساتھ یہ کام کیاجارہا ہے۔

فریڈ ریچ نے کہاکہ ’ملک کے اقتدار پر قابض لوگ کی نظر میں ہندوستانی عیسائی غیرملکی عنصر ہیں اور ان کے غدار کے طور پر تسلیم کیاجارہا ہے کیونکہ اکثریتی آبادی کے مقابلہ میں ان کا مذہب الگ ہے“۔

انہوں نے مزیدکہاکہ ”ملک کے موجودہ برسراقتدار طبقہ ایک سونچ سے جڑا ہوا ہے جو چاہتے ہیں کہ ہندوستان سے عیسائیوں کو مٹادیں کیونکہ وہ اقلیت ہیں۔

نازیوں کی کتاب کا ایک صفحہ لے کر ماڈران ہندوستان میں مقتدروں کا ماننا ہے کہ ہندوستان کے مکمل شہریت قدرتی طور پر پیدائش حق ہندوؤں کا ہی ہے۔

کسی دوسرے کو یاتو ہندو بنا جانا ہے یا پھر اسکو مٹ جانا ہے۔ ہندوستان کی گلیوں میں نفرت کے کھیل کی سونچ پھیل گئی ہے“۔

فریڈ ریچ جس نے امریکہ میں آر ایس ایس کی سرگرمیوں کا پتہ چلایاہے‘ اس سے قبل بھی راشٹرایہ سیویم سیوک سنگھ(آر ایس ایس) سے منسوب امریکہ میں سیوا انٹرنیشنل این جی او کوٹوئٹر کے سی ای او جیاک ڈوسری کے 2.5ملین امریکی ڈالر کے عطیہ کے خلاف احتجاج شروع کرتے ہوئے بھوک ہڑتال کی تھی۔

ڈسمبر26سال2021کو دائیں بازو کے گروپ بجرنگ دل کے شدت پسندوں نے مبینہ طور پر اندور کے ایک سنچار کیندر کرسچین سات پرکاشن میں توڑ پھوڑ مچائی اور عیسائی منسٹرس پر حملے کئے وہیں جئے شری رام کے نعرے لگائے تھے۔

انہوں نے خواتین کو بھی نشانہ بنایا‘ جو دعائیہ اجتماع کے دوران موجود تھے اور اس گروپ ممبرس پر جبری مذہبی تبدیلی کا الزام بھی لگایاتھا۔