عرفان جابری
جسٹس (ریٹائرڈ) مرکنڈے کاٹجو بے باک شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ وہ کئی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس رہے، سپریم کورٹ کے مستقل جج رہے، اور پریس کونسل آف انڈیا کے چیئرمین بھی رہے ہیں۔ 73 سالہ جسٹس کاٹجو کا اپنی پوری سرویس میں بے باکی کیلئے شہرہ رہا اور آج بھی ہے۔ وہ زندگی کے لگ بھگ ہر شعبے کے بارے میں تیکھے تبصرے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ تاہم، کوئی بھی شخصیت ہر فن یا ہر شعبہ میں ماہر نہیں ہوسکتی۔ شاید اسی لئے وقفے وقفے سے جسٹس کاٹجو کے تبصرے تنازع کھڑا کردیتے ہیں۔ ایک بات بالکل سچ ہے کہ وہ ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں سرایت کرگئے کرپشن کو تسلیم کرتے ہیں، یعنی وہ مانتے ہیں کہ عدلیہ بھی بدعنوانی سے بچا ہوا نہیں ہے۔ البتہ، کوئی شعبہ کسی دیگر کے مقابل بہتر ضرور ہے۔ میرے خیال میں کرپشن کی وجہ سے ہی وہ سیاسی شعبہ اور سیاستدانوں سے نفرت کرتے ہیں۔ ایک موقع پر انھوں نے کہا تھا کہ ہندوستانی سیاستدانوں کو ایک قطار میں کھڑا کرکے شوٹ کردینا چاہئے!
حالیہ لوک سبھا الیکشن سے قبل میڈیا والے معمول کی طرح جسٹس کاٹجو سے ملے، اور اُن سے متوقع نتیجے کے بارے میں جانکاری چاہی۔ انھوں نے کہا کہ 543 لوک سبھا نشستوں میں سے کانگریس کو 125، بی جے پی کو 125 اور بقیہ نشستیں دیگر قومی و علاقائی پارٹیوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ یعنی ’کھچڑی‘ حکومت بننا طے ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ دیگر پارٹیاں کانگریس اور یو پی اے کی طرف جائیں گی یا بی جے پی اور این ڈی اے کی طرف؟ ایسا کچھ نہیں ہوا اور پانچ سال زیادہ تر احمقانہ حکمرانی کے باوجود برتر اکثریت کے ساتھ نریندر مودی دوبارہ وزیراعظم بن گئے! اس کی وجوہات یقینا جسٹس کاٹجو کو پتہ چلی ہوں گی، جیسا کہ ملک بھر میں متعدد چھوٹے بڑے گوشوں کو معلوم ہے کہ 2019ء الیکشن کے ایسے نتائج کیونکر برآمد ہوئے۔ المیہ یہ ہے کہ بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس سے لے کر کسی بڑے سے بڑے ایڈوکیٹ؍ بیرسٹر کے پاس ہمت نہیں کہ ان نتائج کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہوتے، یا ایجی ٹیشن شروع کرتے۔
چند روز قبل جسٹس کاٹجو جنھیں ہم نے ابھی تک سکیولر نظریات کی حامل شخصیت پایا ہے، انھوں نے ملک کے موجودہ فرقہ وارانہ حالات اور مسلمانوں کے خلاف لنچنگ اور دیگر ہراسانی کے واقعات پر تبصرے میں کہا کہ مسلمانوں کا حشر جرمنی کے یہودیوںجیسا ہوگا۔ اس عجیب تبصرہ پر مجھے حیرت ہوئی کہ جسٹس کاٹجو نے اپنے ہم وطن 20 کروڑ مسلمانوں کے تعلق سے اس طرح کے الفاظ کس طرح ادا کئے۔ میڈیا کا بڑا حصہ چند برسوں سے ’’گودی میڈیا‘‘ بن چکا ہے جس کا کام بلاچوں چراں مودی حکومت کے گن گانا ہے۔ شاید اسی لئے جسٹس کاٹجو کے عجیب تبصرہ کی کچھ خاص تشہیر نہیں ہوئی۔
میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ جسٹس کاٹجو مسلمانوں کو مستقبل کے خطرے سے آگاہ کررہے ہیں، چوکس کررہے ہیں، متنبہ کررہے ہیں یا دھمکا رہے ہیں؟ دوسری جنگ عظیم کے دوران یورپی یہودیوں کی نسل کشی کی گئی جسے ’ہولوکاسٹ‘ (Holocaust) کہتے ہیں۔ 1941ء اور 1945ء کے درمیان سارے جرمن زیرقبضہ یورپ میں اڈالف ہٹلر زیرقیادت نازی جرمنی اور اس کے شراکت داروں نے منظم طریقے سے لگ بھگ 6ملین (60 لاکھ) یہودیوں کو قتل کیا، جو اُس وقت یورپ کی یہودی آبادی کا تقریباً دو تہائی حصہ تھا۔ تب صرف جرمنی کی آبادی لگ بھگ 65 لاکھ اور پورے یورپ کی آبادی تقریباً 42 کروڑ تھی۔ یعنی یورپی آبادی میں یہودی محض 0.15% بھی نہ تھے۔ یہودی نسل کشی صرف نازی جرمنی کے ہاتھوں نہیں ہوئی بلکہ ہٹلر کے تمام حامی ملکوں نے اس خونریزی میں اپنی شراکت درج کرائی۔ ہولوکاسٹ کی وجہ جتنی نسلی ہوسکتی ہے، اُتنی سیاسی بھی ہوسکتی ہے۔
نازی جرمنی کی قیادت میں یورپ والوں نے بھلے ہی اپنے براعظم کو یہودیوں سے پاک کرنا چاہا، لیکن بقیہ دنیا بالخصوص امریکہ اور خود یہودیوں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور تین مذاہب کے مذہبی احساسات سے جڑی بیت المقدس کی سرزمین کو ہتھیانے کی منظم منصوبہ بندی کی گئی۔ 1945ء سے یورپ بدر یہودی زیادہ تر امریکہ اور دیگر عالمی گوشوںمیں مقیم ہوگئے اور پھر تین سال کی مدت میں 14 مئی 1948ء کو مملکت ِ اسرائیل کے قیام کا اعلان کردیا گیا۔ آخری مردم شماری کے مطابق 2017ء میں اسرائیل کی آبادی 87.1 لاکھ درج کی گئی، جس میں یہودی 74.6% اور اقلیتی فلسطینی عرب قومیت والے اسرائیلی شہری 20.95% ہیں۔
غور کیجئے کہ 75 سال قبل یورپ اور بالخصوص نازی جرمنی کے یہودیوں کا موجودہ ہندوستان کے مسلمانوں سے موازنہ کیونکر کیا جاسکتا ہے۔ شاید جسٹس کاٹجو نے اس نکتہ پر توجہ دی کہ مودی حکومت یا آر ایس ایس کی حکمرانی ایک ہی بات ہے اور سنگھ والے ہٹلر کو ’مانتے‘ ہیں۔ چنانچہ عین ممکن ہے وہ مسلم آبادی کا وہی حشر کریں گے جو ہٹلر نے جرمنی اور اپنے زیرکنٹرول یورپ میں کیا تھا۔ میں پہلے ہی تحریر کرچکا ہوں کہ وہ (ایٹم بم کے دور میں) یہودیوں کی منظم نسل کشی تھی اور جرمنی کے حلیف جاپان کے شہروں ہیروشیما و ناگاساکی پر امریکی ایٹمی حملے کے ساتھ ہی دوسری جنگ عظیم نے دم توڑ دیا۔
ہندوستان میں سیاسی فائدے کیلئے کی گئی اب تک کی لنچنگ (پُرتشدد ہجوم کے ہاتھوں زدوکوبی؍ قتل) کا یہودی نسل کشی سے تقابل صفر ہوگا۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں منظم یا بڑے پیمانے پر مسلم ہلاکتیں 2002ء کے گجرات فسادات میں پیش آئیں، اور وہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 790 ہیں جبکہ 254 ہندو بھی ہلاک ہوئے۔ اگر ہم اسے 1,000 مسلم ہلاکتیں مان لیتے ہیں تو ہندوستان کی مسلم آبادی کو ختم کرنے گجرات نوعیت کے 2,00,000 فسادات درکار ہوں گے! وہاں جرمنی میں یہودیوں کے یورپ بدر ہونے میں امریکہ و دیگر نے ’’شر میں خیر‘‘ کا پہلو نکال کر انھیں فلسطین کی سرزمین پر قابض کردیا۔ ہندوستانی مسلمانوں کیلئے ایسی کوئی سیاسی وجہ نہیں۔ پہلے ہی درجنوں مسلم ممالک ہیں۔ خود انڈیا کے آس پاس کٹر حریف و نیوکلیئر پڑوسی پاکستان کے بشمول کئی مسلم ممالک ہیں۔ ان نکات کے علاوہ قابل غور ہے کہ یہ نیوکلیئر ہتھیاروں کا دور ہے۔ کوئی بھی ملک چاہے سوپر پاور ہو، طاقتور ہو، بڑا ہو یا چھوٹا… پوری طرح محفوظ ہے ، نہ پوری طرح مخدوش۔ ہر کوئی دیگر کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور خود نقصان کا نشانہ بھی بن سکتا ہے۔
جسٹس کاٹجو نے فرقہ پرستانہ اور گھٹیا حکمرانی کے مدنظر مسلمانوں کو تو انتباہ دے دیا مگر یہ نہیں بتایا کہ خود ہندوستان کا ایسی پالیسی کے نتیجے میں کیا حشر ہوسکتا ہے؟ انڈیا مختلف زبانوں، مختلف تہذیبوں، مختلف ثقافتوں، مختلف تہواروں کا ملک ہے۔ ہندوستانی حکمرانوں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ 72 سال قبل انگریزوں کی غلامی سے آزادی کے وقت ہی مذہب کی بنیاد پر بھارت کے دو ٹکڑے ہوئے اور پھر 24 سال بعد ایک ٹکڑا (پاکستان) زبان کی اساس پر مزید تقسیم (بنگلہ دیش) ہوا۔ اس کا مطلب ہے کہ مذہبی، لسانی، سیاسی اور نظریاتی بنیادوں پر ملکوں اور اتحادوں کا بکھراؤ ہوجاتا ہے۔ ایسا بکھراؤ کمیونزم (اشتراکیت) سے بیزارگی اور ڈیموکریسی (جمہوریت) کی چاہ کے سبب 1991ء میں دیکھنے میں آیا تھا جب سوویت یونین یا یو ایس ایس آر (یونین آف سوویت سوشلسٹ ری پبلکس) کی مقتدر اعلیٰ مملکت بکھر کر روس، جارجیا، یوکرین، مولدوا، بیلاروس، آرمینیا، آذربائجان، قازقستان، ازبیکستان، ترکمینستان، کرغزستان، تاجکستان میں تقسیم ہوئی۔ اس بکھراؤ سے چھ مسلم ممالک وجود میں آئے۔
ہندوستان جزیرہ نما ملک ہے یعنی تین طرف پانی سے گھرا ہے۔ ایسے خطوں میں علحدگی پسند رجحانات پنپتے رہتے ہیں۔ برسراقتدار بی جے پی اور سنگھ پریوار کے قائدین ہندی زبان کا ملک گیر استعمال اور ’ایک ملک، ایک کوڈ‘ جیسی انتشارپسندانہ باتوں سے خاص طور پر جنوبی ہند کی ریاستوں کو بدظن کررہے ہیں۔ ویسے بھی اُن کے ساتھ مرکزی حکومت اور شمال والوں کا رویہ ہمیشہ معاندانہ رہا ہے۔ خود بی جے پی حکومت والے کرناٹک کو مرکز سے شکوہ رہتا ہے کہ فنڈز کی تقسیم میں جنوبی ریاست کے ساتھ منصفانہ عمل نہیں ہورہا ہے۔ اگر مودی حکومت یا مستقبل میں بننے والی حکومتوں کی روش موجودہ طرز پر برقرار رہی تو عجب نہیں کہ ٹاملناڈو، کیرالا، آندھرا پردیش، مغربی بنگال، پنجاب، کشمیر جیسی ریاستیں بغاوت کردیں گے۔ بھارت کا بھلا اسی میں ہے کہ تعصب، تنگ نظری ترک کرے، مسلمانوں کو ’’درانداز‘‘ سمجھنا چھوڑے اور ملک و قوم کی ترقی پر دھیان دیا جائے۔ ورنہ انڈیا سے مسلم آبادی تو ختم نہیں ہوگی مگر چند دہوں میں ملک کا موجودہ نقشہ ضرور تبدیل ہوجائے گا!٭
[email protected]