رانچی، 8 اکتوبر (آئی اے این ایس) ہندوستان جمعہ کو جے ایس سی اے انٹرنیشنل اسٹیڈیم کمپلیکس میں ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹی20 میچ میں کامیابی حاصل کرکے 5 میچوں کی سیریز میں 2-0 کی برتری حاصل کرنے کے ارادے سے میدان میں اترے گا۔ تاہم پہلے میچ میں شاندار کامیابی کے باوجود ٹیم مینجمنٹ کے سامنے چند اہم انتخابی فیصلے موجود ہیں، جو ٹیم کی موجودہ ترتیب میں تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں۔ ہندوستان نے لکھنؤ میں کھیلے گئے پہلے میچ میں ویسٹ انڈیز کے171 رنز کے ہدف کو صرف 14.4 اوورز میں حاصل کرلیا تھا۔ شریئس ایئر نے 43 گیندوں پر ناقابل شکست 102 رنزکی شاندار اننگز کھیل کر ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کامیابی کے بعد ہندوستان کے پاس تجربات کرنے کی گنجائش موجود ہے، تاہم سنجو سیمسن کی مسلسل ناکامی اور میانک یادوکی مہنگی بولنگ ٹیم مینجمنٹ کو تبدیلی پر غورکرنے پر مجبورکرسکتی ہے۔ سیمسن اپنی آخری 4 اننگز میں صرف 9، 7، 2 اور 11 رنز بنا سکے ہیں، جس کے باعث اوپننگ جوڑی پر توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔ ہندوستانی اسکواڈ میں نوجوان وائبھَو سوریہ ونشی کی موجودگی انہیں ٹاپ آرڈر میں تبدیلی کی صورت میں ایک مضبوط متبادل بناتی ہے۔ اسکواڈ میں ابھیشیک شرما، ایشان کشن، سیمسن اور سوریہ ونشی شامل ہیں۔سوریہ ونشی کی خاص بات پاور پلے میں جارحانہ انداز سے بیٹنگ کرنے کی صلاحیت ہے۔ اوپننگ میں تبدیلی سے ہندوستان کو ایک نئی جوڑی آزمانے کا موقع بھی مل سکتا ہے، جبکہ ابھیشیک شرما کو برقرار رکھا جاسکتا ہے، جو ٹیم کی ٹی20 حکمت عملی میں اپنی جارحانہ بیٹنگ کے باعث اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔تاہم ٹیم مینجمنٹ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا سیمسن کی خراب فارم کی ایک اور کڑی ان سے دور ہونے کے لیے کافی ہے یا تجربہ کار وکٹ کیپر کو فارم میں واپسی کا ایک اور موقع دیا جائے۔بیٹنگ کے دیگر شعبوں میں ہندوستان کو زیادہ تشویش نہیں ہے۔ شریئس ایئرکی پہلی ٹی20 سنچری نے مڈل آرڈرکو مضبوطی فراہم کی ہے۔ لکھنؤ میں ان کی ناقابل شکست 102 رنزکی اننگز نے ہدف کے تعاقب کے دوران ہندوستان کو کسی بھی مرحلے پر دباؤ میں نہیں آنے دیا۔ بولنگ میں بھی ایک اہم فیصلہ میانک یادو سے متعلق ہوگا۔ میانک نے پہلے اوور میں 16 رنز دیے اور مجموعی طورپر بھی مہنگے ثابت ہوئے، اگرچہ انہوں نے بعد میں ویسٹ انڈیزکے سب سے زیادہ رنز بنانے والے شیرفین ردرفورڈ کو 56 رنز پر آؤٹ کیا۔ نمن دھیر نے31 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ کلدیپ یادو اور اکشر پٹیل نے فی کس2 وکٹیں حاصل کیں۔ ہندوستان متبادل فاسٹ بولنگ کے امتزاج پر بھی غور کرسکتا ہے، جس میں نتیش کمار ریڈی ایک اضافی راستہ فراہم کرسکتے ہیں۔ تاہم ٹیم مینجمنٹ اس بات سے بھی واقف ہے کہ نئی گیند سے نتیش کو آزمانے کے نتائج ہمیشہ توقع کے مطابق نہیں رہے ہیں۔