ہیملٹن ۔ یاستیکا بھاٹیہ نے نصف سنچری اسکورکی جب کہ اسنیہ رانا نے آل راؤنڈ مظاہروں (27 اور 30/4/4) کے ساتھ ایک لازمی جیت کے مقابلے میں کلیدی رول ادا کیا جب ہندوستان نے بنگلہ دیش کے خلاف 110 رنز کی واضح فتح حاصل کی۔ منگل کو یہاں سیڈن پارک میں آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ لیگ کا میچ میں ہندوستانی ٹیم کو سیمی فائنل کی دوڑ میں خود کو باقی رکھنے کیلئے اس مقابلے میں کامیابی حاصل کرنا ضروری تھا ۔ اس کامیابی نے ٹورنمنٹ کے 2017 ایڈیشن کے رنر اپ کو نشانات کے جدول میں تین فتوحات اور اتنی ہی تعداد میں شکست کے ساتھ تیسرے نمبر پر جانے میں مدد کی لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ صحت مند +0.768 نیٹ رن ریٹ (این آر آر ) ہے جو ہندوستان کو سیمی فائنل میں اپنا مقام بنانے میں مدد کر سکتا ہے اگر متعدد ٹیمیں ایک جیسے نشانات پر اپنی مہم ختم کرتی ہیں۔یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ متھالی راج کی قیادت میں ہندوستان کو 27 مارچ کو کرائسٹ چرچ میں جنوبی افریقہ کے خلاف اپنا آخری لیگ میچ بھی جیتنا ہوگا جس نے صرف آسٹریلیا سے مقابلہ ہارا ہے اور جبکہ اس نے 5 میں سے 4 مقابلے جیتے ہیں۔ ہندوستان کے لیے یہ سب کچھ ہموار سفر نہیں تھا جیسا کہ وہ176/6 پر جدوجہد کر رہے تھے اس موقع پر اسنیہ رانا اور پوجا وستراکر نے بنگلہ دیش کو 230 رنز کا ہدف دینے کے لیے شاندار مظاہرہ کیا ۔ جیسے جیسے وکٹیں گرتی رہیں اس نے درمیانی اوورز میں اسکور بورڈ کی حرکت برقرار رکھنے کے لیے ہرمن پریت کور اور رچا گھوش کے ساتھ دو اہم شراکتیں بنائیں۔ رانا گیند کے ساتھ بھی شاندار رہی، انہوں نے چار وکٹیں لے کر بنگلہ دیش کی بیٹنگ لائن اپ کی کمر توڑدی۔ تمام ہندوستانی بولروں نے وکٹوں کے ساتھ اہم کردار ادا کیا۔ بنگلہ دیش کیلئے نشانے کا تعاقب کبھی بھی پٹری پر نہیں تھا کیونکہ صرف پانچ بیٹرس نے دوہرے ہندسے کے اسکور بنائے، سلمیٰ خاتون نے 32 کے ساتھ سب سے زیادہ اسکورکیا۔ 230 رنزکا دفاع کرتے ہوئے ہندوستان نے جھولن گوسوامی اور اسپنر راجیشوری گیاکواڈ کے ساتھ بولنگ کا آغازکیا۔ راجیشوری نے شرمین اخترکو آؤٹ کرکے پہلے کامیابی حاصل کی جبکہ تجربہ کار جھولن نے دوسرے سرے پر رنز کی رفتار پر روک لگا رکھا۔ پوجا وستراکر کے ذریعے پاور پلے میں ہندوستان نے ایک بار پھر حملہ کیا، جنہوں نے فرغانہ حق کو اسٹمپ کے سامنے آوٹ کیا۔قبل ازیں شفالی ورما (42) اور اسمرتی مندھانا (30) نے پہلے بیٹنگ کا انتخاب کرنے کے بعد ہندوستان کو شاندارآغاز فراہم کیا، جوڑی نے 15ویں اوورکی آخری گیند پر تباہی آنے تک ابتدائی وکٹ کے لیے74 رنز بنائے۔ مندھانا نے ناہیدہ اختر کی گیندکو سیدھے فرغانہ حق کی طرف کھیل کرآوٹ ہوئی اگلے اوور میں ریتو مونی نے شیفالی کو اسٹمپ آوٹ کیا۔شفالی ورما نے گراؤنڈ سے باہر ایک چوکا مارنے کی کوشش کی اور اسٹمپ ہو گئیں، اس کے فوراً بعد کپتان متھالی راج اپنی پہلی ہی گیند کو سیدھی فہیمہ خاتون کو کور پر دے بیٹھیںجس سے ہندوستان تیزی سے 74/3 پر سمٹ گیا۔ بھاٹیہ اور ہرمن پریت کور نے اننگزکو مستحکم کرنا شروع کیا لیکن یہ رن ریٹ گرنے کی قیمت پرآیا ان دونوں کی 34 رنزکی شراکت 70 گیندوں میں ہوئی اس موقع پر ہرمن تیزی سے ایک رن لینے کی کوشش میں رن راست تھرو پر رن آوٹ ہوئی۔گھوش کی کریز پرآمد کے بعد بھاٹیہ کے ساتھ ہندوستان کو ایک بار پھر اپنی اننگز کو دوبارہ کھڑاکرنا پڑا۔ وکٹ کیپر نے 30 ویں اوور میں لتا مونڈل کو لگاتار باؤنڈریزکے ذریعے بولروں پر جوابی حملہ شروع کیا۔ یہ جوڑی باقاعدگی سے باؤنڈری تلاش کرتی رہی ۔ بھاٹیہ نے ٹورنمنٹ کا اپنی دوسری نصف سنچری مکمل کی لیکن وہ اگلی ہی گیند پر پیڈل سویپ کرنے کی کوشش میں آوٹ ہوئی۔44 ویں اوور کے اختتام پر180/6 کے بعد ہندوستان کو اچھی طرح اننگز ختم کرنے کی ضرورت تھی اور رانا اور وستراکر نے ایسا ہی کیا۔ ان کی 38 گیندوں میں 48 رنزکی شراکت نے ہندوستان کو 229/7 تک پہنچا دیا۔ہندوستان کا اب آخری مقابلہ اتوار کو ٹورنمنٹ کی طاقتور ٹیم جنوبی افریقہ سے ہے۔اس مقابلے میں بھی کامیابی ضروری ہے ۔