نفرتی عناصر کی مہم کے باوجود نان ویجیٹیرین ڈشیس کو ترجیح،میٹ کے زائد استعمال میں آندھراپردیش ، تلنگانہ اور کیرالا شامل
حیدرآباد ۔18 ۔ جون (سیاست نیوز) ملک میں فرقہ پرست طاقتوں کی جانب سے نان ویجیٹرین غذاوں اور خاص طور پر بیف کے استعمال کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے لیکن ہندوستانی عوام کی اکثریت نان ویجیٹرین غذاؤں کا استعمال کرتی ہے۔ ملک میں میٹ کے استعمال کے بارے میں سروے کیا گیا ، جس میں یہ چونکا دینے والا انکشاف منظر عام پر آیا ہے کہ ہندوستان میں 80 فیصد سے زائد عوام میٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ سروے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ہندوستانیوں کی غذائی عادات میں نان ویجیٹرین لازمی حصہ ہے۔ شمال مشرقی اور جنوبی ریاستوں میں میٹ کے استعمال کا رجحان زیادہ پایا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی غذاؤں اور روایتی انداز کے ڈشیس میں نان ویجیٹیرین کو عوام ترجیح دیتے ہیں۔ مقامی طور پر تہذیب اور روایات میں میٹ کا استعمال شامل ہے۔ سروے کے مطابق لکشا دیپ ، میزورم ، ناگالینڈ اور آندھراپردیش میں میٹ کا استعمال 95% سے زائد ہے۔ راجستھان اور ہریانہ میں میٹ اور دیگر نان ویجیٹیرین غذاؤں کے استعمال کا رجحان کم پایا گیا ہے۔ ہندوستانیوں کی غذائی عادات میں نان ویجیٹیرین کی ترجیح سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ مٹھی بھر نفرتی عناصر عوام کو نان ویجیٹیرین غذاؤں سے روکنے کی لاکھ کوشش کرلیں لیکن روایتی غذاؤں کے استعمال کو روکا نہیں جاسکتا۔ لکشادیپ میں صد فیصد عوام میٹ کا استعمال کرتے ہیں جبکہ بنگال میں 99 فیصد عوام کی غذا میں میٹ شامل ہوتا ہے۔ آندھراپردیش میں 98 اور تلنگانہ میں 96 فیصد افراد میٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ جھارکھنڈ ، بہار ، اڈیشہ ، ٹاملناڈو ، کیرالا ، گوا ، اروناچل پردیش، میگھالیہ ، میزورم ، ناگالینڈ ، منی پور اور آسام میں میٹ کا استعمال 95 فیصد سے زائد درج کیا گیا ہے۔ میٹ کے استعمال میں کمی والی ریاستوں میں راجستھان ، ہریانہ ، پنجاب اور گجرات شامل ہیں۔1/k/m/b