ہندوستان کے سابق فٹبال کوچ رستم کا انتقال

   

نئی دہلی۔ ہندوستانی فٹ بال ٹیم کے سابق کوچ رستم اکرموف کا ازبکستان میں اپنے آبائی مقام پر انتقال ہوگیا۔اکرموف کی رہنمائی میں لیجنڈری فٹ بالر بائیچنگ بھوٹیا نے1995 میں بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا اور ٹیم نے فیفاکی اب تک کی سب سے بہترین درجہ بندی حاصل کی۔اکرموف کی عمر73 سال تھی۔ازبکستان کی نیشنل اولمپک کمیٹی کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق ازبکستان کے لیجنڈکوچ کو انتقال کرگئے۔ازبکستان کی اولمپک باڈی نے کہا ازبکستان کی قومی اولمپک کمیٹی اور کونسل آف اسپورٹس ویٹرنز آف ازبکستان رستم اکرموف کے انتقال کے بعد اہل خانہ اوردوستوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے ازبکستان اور سابق سوویت یونین میں کھیلے۔ فٹ بال نے اس کی ترقی میں اہم کردار اداکیا۔آل انڈیا فٹ بال فیڈریشن (اے آئی ایف ایف) نے اکرموف کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے، جو 1995 سے 1997 تک قومی ٹیم کے انچارج تھے۔اے آئی ایف ایف نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر لکھا ہم ہندوستانی قومی ٹیم کے سابق ہیڈکوچ رستم اکرموف کے انتقال پر سوگوار ہیں۔ ان کی روح کو سکون ملے۔اپنے مختصر دور میں اکرموف نے کوئی بڑی ٹرافی نہیں جیتی لیکن ان کی رہنمائی میں سکم کے بھوٹیا نے مارچ 1995 میں تھائی لینڈ کے خلاف نہرو کپ میچ میں اپنا بین الاقوامی ڈیبیوکیا۔اکرموف کی رہنمائی میں نوجوان بھوٹیا آئی ایم وجین، کارلٹن چیپ مین اور برونوکوٹینہو جیسے مضبوط کھلاڑیوں کے علاوہ ہندوستانی فٹ بال ٹیم کا حصہ تھے۔اکرموف کی رہنمائی میں ہندوستانی ٹیم فروری 1996 میں اپنی بہترین درجہ بندی 94 ویں مقام تک پہنچی۔ اس کے علاوہ ہندوستانی ٹیم 2017 اور 2018 میں 96 ویں رینکنگ پر پہنچی تھی۔اکرموف 1948 میں تاشقند کے قریب پیدا ہوئے۔ وہ آزاد ازبکستان کے پہلے کوچ تھے۔ ازبکستان کی ٹیم نے 1992۔1994 تک اپنے دو سالہ دور میں ہیروشیما ایشین گیمز (1994) اور سنٹرل ایشین چمپئن شپ میں خطاب جیتے تھے۔ازبکستان فٹ بال میں ان کی شاندار خدمات پر انہیں سقراط میڈل سے نوازاگیا۔ حکومت نے انہیں جمہوریہ ازبکستان کے اعزازی کوچ کے خطاب سے بھی نوازا۔