ہندوستان کے پاس 190 ایٹمی ہتھیاروں کا ذخیرہ: رپورٹ

,

   

نئی دہلی10 ستمبر (یو این آئی) ہندوستان کے ایٹمی ذخیرے میں کل 190 وار ہیڈ ہونے کا اندازہ ہے ۔ ان میں 160 ایٹمی وار ہیڈ تعینات کیے جانے کی حالت میں ہیں اور بقیہ 30 کیلئے میزائلیں تیار کی جا رہی ہیں۔امریکہ کے ایک پالیسی تھنک ٹینک ‘فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس کی ویب سائٹ پر ایک رپورٹ میں یہ اندازے اوپن سورس، سرکاری ڈیٹا اور کمرشل سیٹلائٹ تصاویر سے لگائے گئے ہیں۔ ایف اے ایس نیوکلیئر انفارمیشن پراجیکٹ ڈائریکٹر ہینس کرسٹینسن کی ‘انڈیاز نیوکلیئر ویپنز – 2026’ رپورٹ کے مطابق ایٹمی ہتھیار لیجانے میں اہل فورس اسٹرکچر اور حکمت عملی پر دستیاب عوامی معلومات کی بنیاد پر، ہمارا اندازہ ہے کہ ہندوستان نے تقریباً 190 ایٹمی وار ہیڈ تیار کیے ہونگے۔دعویٰ کیا گیا کہ ہندوستان ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے کو جدید بنانے اور زمین، ہوا اور سمندر سے ایٹمی حملہ کی صلاحیت کو فعال کرنے کوشاں ہے ۔ اندازہ ہے کہ ہندوستان ابھی نو مختلف ایٹمی صلاحیت کے حامل سسٹمز کا استعمال کر رہا ہے : دو طرح کے طیارے ، زمین سے مار کرنے والی چھ بیلسٹک میزائلیں اور سمندر سے مار کرنے والی ایک بیلسٹک میزائل۔ کم از کم دو اور سسٹمز ابھی بن رہے ہیں اور جلد مکمل ہونے والے ہیں۔مصنف کا اندازہ ہے کہ آپریشنل فورس 160 سے زیادہ ایٹمی وار ہیڈ تعینات کر سکتی ہے ، اور جو میزائلیں بن رہی ہیں، ان کیلئے مزید وار ہیڈ بنائے گئے ہیں، جس سے کل وار ہیڈز کی تعداد 190 تک پہنچ سکتی ہے ۔ واصح رہے کہ حکومتِ ہند اس طرح کا کوئی ڈیٹا شائع نہیں کرتی ہے اور اس کی واضح پالیسی ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار کا استعمال پہلے نہیں کرے گی۔ ہندوستان کے دو پڑوسی ممالک پاکستان اور چین کا شمار بھی ایٹمی ممالک میں ہوتا ہے ۔رپورٹ کے مطابق ہندوستان ان چند ممالک میں شامل ہے جو انتہائی افزودہ یورینیم اور ہتھیاروں کے گریڈ کا پلوٹونیم دونوں تیار کرتے ہیں۔