ہندو بالادستی، مسلمانوں کو ماتحت بنانے کی کوشش

   

آشوتوش ورشنے

کیا بھگوت کے دور میں ہندوتوا اعتدال پسند ہو گیا ہے؟ خاص طور پر، کیا آج یہ مسلمانوں کو ہندوستانی شہریوں کے طور پر قبول کرتا ہے، بجائے اس کے کہ

انہیں ملک سے نکالنے یا ختم کرنے کی کوشش کرے؟اگر کوئی ہندو یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے، تو وہ ہندو نہیں رہے گا۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے 29 اگست کو نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔اس بیان کے بعد دو طرح کے ردِعمل سامنے آئے۔ ایک رائے یہ تھی کہ ہندوتوا بنیادی طور پر مسلم مخالف نہیں تھا، یا بھاگوت کی قیادت میں یہ نظریاتی طور پر واضح طور پر اعتدال کی طرف بڑھ چکا ہے۔
پہلی رائے کا مطلب یہ ہوگا کہ جو لوگ ہندوتوا کو مسلم مخالف کہتے ہیں، وہ یا تو نظریاتی طور پر غلط فہمی کا شکار تھے، یا اس سے بھی بڑھ کر، جان بوجھ کر سیاسی شرارت کر رہے تھے۔ دوسری رائے، تاہم، آر ایس ایس کی مسلم مخالف جڑوں سے انکار نہیں کرتی بلکہ بھاگوت کی قیادت میں موجودہ دور میں اعتدال کی طرف پیش رفت پر زور دیتی ہے۔
دوسری جانب آنے والے ردِعمل میں سخت تنقید کی گئی۔ بھاگوت پر الزام لگایا گیا کہ وہ “گھر میں ایک چہرہ اور بیرونِ ملک دوسرا چہرہ” رکھتے ہیں۔ یعنی ہندوستان میں آر ایس ایس مسلمانوں کو نشانہ بناتی ہے، جبکہ بیرونِ ملک وہ فراخ دلی اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کا تاثر دیتی ہے۔اسی دوغلے پن یا دو رْخے رویے کے الزام کے نتیجے میں تقریباً 90 امریکی سیاسی رہنماؤں، جن میں قانون ساز رو کھنہ اور پرمیلا جے پال بھی شامل ہیں، نے یہ عہد کیا کہ وہ آر ایس ایس سے منسلک تنظیموں یا افراد سے مالی عطیات قبول نہیں کریں گے۔ اس سے پہلے نیویارک کے انتہائی مقبول میئر زہران ممدانی نے کہا تھا کہ وہ میڈیسن اسکوائر گارڈن میں بھاگوت کی تقریب پر پابندی عائد کر دیتے، لیکن ان کے پاس ایسا کرنے کا قانونی اختیار نہیں تھا۔چونکہ سیاست دان اور سیاسی جماعتیں ہمیشہ چندہ جمع کرنے کی کوشش میں رہتی ہیں، اس لیے کسی تنظیم یا گروہ سے مالی عطیات لینے سے انکار کرنے والے مؤقف کو امریکی سیاست میں ایک خاص فائدہ حاصل ہو جاتا ہے۔ تارکِ وطن برادریاں اپنے آبائی ممالک کے معاملات میں کافی دلچسپی رکھتی ہیں۔ بھارتی نڑاد امریکی لوگ مالی طور پر بھی بہت مضبوط ہیں اور وہ سیاست پر اثرانداز ہونے کے لیے مالی عطیات دیتے ہیں۔ واضح طور پر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا بھاگوت کی قیادت میں ہندوتوا معتدل ہو گیا ہے یا نہیں۔ زیادہ واضح طور پر سوال یہ ہے: کیا ہندوتوا آج مسلمانوں کو اپنے ہم وطن ہندوستانیوں کے طور پر قبول کرتا ہے، بجائے اس کے کہ انہیں ملک سے نکالنے یا ختم کرنے کی کوشش کرے؟آئیے دو مختلف تصورات میں فرق کرتے ہیں: ایک یہ کہ مسلمانوں کو ملک سے نکال کر یا ختم کرکے ہندو قوم بنائی جائے، اور دوسرا یہ کہ مسلمانوں کو ماتحت حیثیت میں رکھ کر ہندو قوم بنائی جائے۔ میری دلیل یہ ہے کہ ہندو قوم پرستی بطور نظریہ مسلمانوں کو ملک سے نکالنے یا ختم کرنے کے بجائے مسلمانوں کی ماتحتی کے ذریعے ہندو بالادستی قائم کرنا چاہتی ہے۔ مسلمانوں کو ختم کرنے کا طریقہ وہ ہے جو ہٹلر کے دور میں جرمنی میں یہودیوں کے ساتھ اختیار کیا گیا تھا۔
یہ درست ہے کہ ہندو قوم پرست تنظیموں کے بعض کارکنوں، حتیٰ کہ درمیانی سطح کے کچھ رہنماؤں نے ایسے الفاظ، نعرے اور خیالات استعمال کیے ہیں جن میں تشدد کا تصور اور مسلمانوں کو ملک سے نکالنے کی خواہش نظر آتی ہے۔ اس ضمن میں اپنے بچپن اور نوجوانی کے زمانے کی کچھ مثالیں یاد کرتی ہیں۔ میرے والد اتر پردیش حکومت کے ایک افسر تھے اور خاندان تقریباً ہر تین سال بعد ایک نئی جگہ منتقل ہوتا تھا۔کچھ شہروں میں شدید مسلم مخالف نعرے سننے کو ملتے تھے۔ مجھے علی گڑھ کا ایک نعرہ خاص طور پر یاد ہے۔یعنی مسلمانوں کو انتہائی بے ایمان قرار دے کر ان کے کان کاٹنے اور انہیں پاکستان بھیجنے کی بات کی جاتی تھی۔ لکھنؤ یا الہ آباد جیسے دوسرے شہروں میں ایسے نعرے بہت کم، یا شاید کبھی بھی، سننے کو نہیں ملے۔کچھ رہنماؤں نے بھی ایسے خیالات کا اظہار کرنے سے گریز نہیں کیا۔ اپنی کتاب Ethnic Conflict and Civic Life: Hindus and Muslims in India پر تحقیق کے دوران ہم نے گجرات میں وشوا ہندو پریشد (VHP) کے ایک اہم عہدیدار سے ملاقات کی۔رازداری کی یقین دہانی حاصل کرنے کے بعد اس عہدیدار نے بلا جھجھک کہا کہ اگر مسلمانوں کی تعداد کم ہوتی تو ‘‘عرب مہاساگر میں پھینک دینا’’ ہندوستان کے لیے ایک مثالی حل ہوتا۔
اسی طرح ‘‘دیش کے غداروں کو، گولی مارو سالوں کو’’ یعنی ملک کے غداروں کو گولی مار دو، 2020 کے دہلی فسادات کے دوران بلند آواز سے سنا جانے والا ایک نعرہ تھا، جس میں اسی نوعیت کے پرتشدد تصور کو سیاسی سوچ میں شامل کیا گیا تھا۔
اگر ہم ہندو قوم پرستی کے نظریاتی بانی وی۔ ڈی۔ ساورکر کی تحریروں اور نظریات کا جائزہ لیں تو ہمیں ہندو بالادستی کا تصور، مسلمانوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ کا پتہ چلتا ہے۔
اس امتیاز کی سب سے منظم وضاحت حال ہی میں لونا سباستیان کی کتاب ‘‘Fascism Indian: Race, Caste and Hindutva’’ (ہارورڈ یونیورسٹی پریس، 2025) میں سامنے آئی ہے۔ وہ تین اہم دعوے پیش کرتی ہیں۔اول: ہندوستان میں مسلمانوں کی صدیوں پر محیط حکمرانی کا پس منظر ساورکر کو شدید طور پر پریشان کرتا تھا، حالانکہ برطانوی حکومت کو ہندوستان پر حکمرانی کرتے ہوئے ایک صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا۔ 1910ء اور 1920ء کی دہائی میں بھی انہیں یقین تھا کہ برطانوی اقتدار کے خاتمے کے بعد مسلم حکمرانی دوبارہ واپس آ سکتی ہے۔ ساورکر کے لیے اصل مسئلہ یہ تھا کہ ‘‘مسلمانوں کو خودمختاری کے ممکنہ دعوے دار کے طور پر ختم کر دیا جائے۔’’ دوسرے الفاظ میں، مقصد مسلمانوں کا جسمانی خاتمہ نہیں بلکہ مسلم اقتدار کی دوبارہ واپسی کے امکان کو ختم کرنا تھا۔دوم: ساورکر نے تجویز پیش کی کہ ہندو ایک اختلاط پذیر/نسلی اختلاط کو قبول کرنے والی قوم بنیں۔ ان کے مطابق، ‘‘ہندو قوم پرستی پر نازی نسل پرستی کا نمونہ لاگو کرنا بہت سے دانشوروں کو پْرکشش دکھائی دیتا ہے، لیکن یہ گمراہ کن ہے۔’’ نازیوں کا مقصد جرمن نسلی پاکیزگی اور یہودیوں کا اخراج یا خاتمہ تھا۔ساورکر کا استدلال تھا کہ جس طرح ماضی میں مسلمان مردوں نے ہندو عورتوں سے شادیاں کیں اور انہیں اسلام قبول کروایا، اسی طرح ہندو مردوں کو بھی مسلمان عورتوں سے شادیاں کرنی چاہئیں اور شدھی کرن (تطہیر) کے ذریعے انہیں ہندو مذہب میں شامل کرنا چاہیے۔ ‘‘یہ تولیدی فتح، اسلام کی ہندوستان پر تاریخی فتح کا عکس، اس کی الٹ اور اس کا انتقام تھی۔‘‘سوم: اس منصوبے کے ساتھ سنگٹھن/سنگٹھنا (تنظیم سازی) کے ذریعے طاقت حاصل کرنا بھی ضروری تھا۔ کیوں؟ کیونکہ’’مسلمان مرد خودمختاری کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اس لیے انہیں کچلنا ضروری تھا؛ انہیں شکست دینا اور اپنے میں ملانا تھا۔‘‘
لیکن مسلمان خواتین کی حیثیت اس سے بالکل مختلف تھی۔ ‘‘ساورکر کے نزدیک عورتیں مردوں سے اس لیے مختلف تھیں کہ ان میں دوبارہ نقش کیے جانے کی بے حد صلاحیت موجود تھی… وہ مردانہ نقش (باپ کی طرف سے حمل کے وقت) اور دوبارہ نقش (شوہر کی طرف سے) قبول کرنے کے لیے آزاد تھیں، اور یہ عمل تبدیلیٔ مذہب اور شادی کے ذریعے ہوتا تھا۔’’ چنانچہ شدھی اور سنگٹھنا کو یکجا کرنے سے ہندو اقتدار کی بحالی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔
سباستیان کے ساورکر کا بھاگوت کے ہندوؤں اور مسلمانوں سے متعلق دعوے سے کیا تعلق ہے؟ بھاگوت شاید یہ تجویز نہیں کرتے کہ ماضی میں جو کچھ ہوا، اس کا بدلہ لینے کے لیے ہندو مردوں کو مسلمان خواتین سے شادیاں کرنی چاہئیں۔ لیکن ان کی قیادت میں ہندو قوم پرستی کا بنیادی مقصد اب بھی دو رخی ہے: ہندو بالادستی اور مسلمانوں کی محکومیت۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ تصور ہندو-مسلم مساوات پر مبنی نہیں، جبکہ ہندو-مسلم مساوات ہندوستان کے آئین کی ایک بنیادی اساس ہے۔