ہند۔چین سرحدی تنازعہ:امریکہ کا ہندوستان کی حمایت کا اعلان

,

   

چین کی جارحیت میں اضافہ ، بحرہند میں امریکی حلیف اور شراکت دار اہم نشانہ : جنرل پیٹرائیڈر

واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع نے کہا کہ وہ ہندوستان-چین سرحد پر لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے ساتھ پیشرفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ چین فوجیوں کو جمع کرنا اور فوج تیار کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہم اپنے شراکت داروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے اپنے عزم پر ثابت قدم رہیں گے۔ اور ہم اس تناو کو کم کرنے کے لیے ہندوستان کی جاری کوششوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔پینٹاگون پریس سیکرٹری ایئر فورس بریگیڈیئر جنرل پیٹ رائڈر نے 13 دسمبرکو ایک آن کیمرہ پریس بریفنگ میں کہا کہ چین کی جارحیت میں اضافہ ہورہا ہے۔ جس کا نشانہ انڈو پیسفک میں امریکی اتحادی اور شراکت دار بن رہے ہیں۔ اروناچل پردیش کے توانگ سیکٹر میں ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان 9 دسمبر کو ہونے والے آمنے سامنے کے بارے میں پوچھے جانے پر، ترجمان نے کہاکہ ڈی او ڈی ہندوستان-چین سرحد پر حقیقی کنٹرول لائن کے ساتھ پیشرفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ فورسز کو جمع کرنا اور نام نہاد انہوں نے مزید کہا کہ ”ہم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ہم ہندوستان اور چین کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ متنازعہ سرحدوں پر بات چیت کے لیے موجودہ دو طرفہ چینلز کا استعمال کریں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بھی اپنی پریس بریفنگ میں کہا کہ امریکہ کو یہ سن کر خوشی ہوئی ہے کہ توانگ میں جھڑپوں کے بعد دونوں فریق تیزی سے منقطع ہو گئے ہیں۔ہم بہت قریب سے نگرانی کر رہے ہیں اور اپنے ہندوستانی شراکت داروں کے ساتھ رابطہ میں ہیں۔ ہم قائم کردہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر سرحد کے اس پار، فوجی یا سویلین، دراندازی کے علاقائی دعووں کو آگے بڑھانے کی کسی بھی یکطرفہ کوشش کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”ہم ہندوستان اور چین کو موجودہ دو طرفہ چینلز کو استعمال کرنے کا مشورہدیتے ہیں۔
ہندوستان اپنے فوجیوں کو قابو میں رکھے: چین
بیجنگ : چین کو توانگ سیکٹر میں ہندوستان کی فوج کے ہاتھوں ذلت اور رسوائی کے بعد اب چین نے ہندوستان پر زور دیا ہے کہ وہ سرحد پر موجود فوجیوں کو قابو میں رکھے اور امن برقرار رکھنے کی غرض سے چین کے ساتھ کام کرے۔ یہ نتیجہ ہے اس منھ توڑ جواب کا جس نے چین کے چھکے چھڑا دئیے ہیں۔ ریاست اروناچل پردیش کے توانگ سیکٹر میں سرحد پر حالیہ جھڑپوں سے متعلق چین کی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے مغربی تھیٹر کمانڈ کے ترجمان نے کہا کہ چینی فوجیوں کے معمول کے پٹرول میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے انڈین فوجیوں نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول کو غیرقانونی طور پر عبور کیا-انہوں نے کہا کہ ’ہم ہندوستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ فرنٹ لائن پر موجود فوجیوں کو سختی سے قابو میں رکھے اور انہیں روک کر رکھے۔‘ہندوستانی دفاعی کے مطابق ایک سرحدی چوٹی پر دونوں اطراف کی پٹرولنگ ٹیمیں آمنے سامنے آئیں اور گتھم گتھا ہو گئیں، کچھ فوجی پتھریلی سطح پر گرنے سے زخمی ہوئے۔مزید دو ذرائع کے مطابق اس واقعے میں تقریباً چھ انڈین فوجی معمولی زخمی ہوئے۔