باہمی اعتماد ضروری، کواڈ ممالک کی میٹنگ سے وزیرخارجہ ایس جے شنکر کا خطاب
نئی دہلی، 26 مئی (یو این آئی) وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ ایک آزاد اور کھلا ہند بحرالکاہل خطہ یقینی بنانا کواڈ ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے ، اور قابلِ اعتماد و شفاف شراکت داری کے دم پر ہی اس مقصد کو بہتر طریقے سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر سپلائی چین کی مضبوطی، رابطہ راستوں کی رکاوٹیں، مینوفیکچرنگ و وسائل اور اہم بنیادی ڈھانچے کی کمی جیسے مسائل پر بھی کواڈ ممالک کو توجہ دینی ہوگی۔جے شنکر نے منگل کے روز یہاں ہندوستان کی میزبانی میں ہو رہی کواڈ ممالک کی میٹنگ میں وہاں کے وزرائے خارجہ آسٹریلیا کی پینی وونگ، جاپان کے وزیرِ خارجہ توشیمیتسو موتیگی اور امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا استقبال کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ وزیرِ خارجہ نے اپنے ابتدائی کلمات میں کہا کہ اس میٹنگ میں ہند بحرالکاہل خطے پر خصوصی توجہ رہے گی، اس کے علاوہ عالمی سطح پر سپلائی چین کی مضبوطی، رابطہ راستوں کی رکاوٹیں دور کرنے ، مینوفیکچرنگ اور وسائل کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اہم بنیادی ڈھانچے کی کمیوں کو دور کرنا بھی انتہائی اہم ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہند بحرالکاہل خطے کے اپنے مخصوص خدشات بھی ہیں۔ اس کیلئے اسٹریٹجک اعتماد کو بڑھانا، سمندری سیکیورٹی کو یقینی بنانا، اقتصادی متبادلات کی حوصلہ افزائی کرنا اور گہرے تعاون پر مبنی نقطۂ نظر کو فروغ دینا ضروری ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کام قابلِ اعتماد اور شفاف شراکت داریوں کو فروغ دے کر ہی سب سے بہتر انداز میں کیا جا سکتا ہے۔ جے شنکر نے کہا کہ ماضی میں ہمارے حکام نے سمندری سیکیورٹی، اہم ترین ٹیکنالوجیز، اقتصادی استحکام، اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد و آفات سے بچاؤ (ڈیزاسٹر مینجمنٹ) جیسے ترجیحی شعبوں میں تعاون کو آگے بڑھایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کئی اقدامات میں حوصلہ افزا پیش رفت دیکھی ہے ۔ سمندری جمہوریتوں، کثیر الثقافتی معاشروں اور مارکیٹ پر مبنی معیشتوں کے طور پر، ایک آزاد اور کھلا ہند بحرالکاہل خطہ یقینی بنانا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ یہ خطہ عالمی ترقی اور استحکام کا محرک بنا رہنا چاہیے ۔ ہمیں یقین ہے کہ آج ہماری بات چیت کا عمل اس بات کو مزید نمایاں کرے گا اور مفید و نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کواڈ کے تئیں امریکہ کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ ایک سال میں اجتماعی طور پر ہمارا مقصد اسے محض ایک ایسے پلیٹ فارم سے آگے لے جانا تھا جہاں ہم مل بیٹھ کر مسائل پر بات چیت کرتے ہیں، اور اسے ایک ایسا فورم بنانا تھا جہاں ہم واقعی ان مسائل کے حل کیلئے عملی کام بھی کریں۔ میرا ماننا ہے کہ ہم اپنے اپنے شہریوں کو یہ بتا سکتے ہیں کہ تعاون کے مختلف شعبوں میں اب ہم اس سمت کافی سرگرمی سے آگے بڑھنا شروع کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کواڈ کے تحت ہم جن مسائل پر کام کرنا چاہتے ہیں، وہ دنیا میں حال ہی میں پیش آنے والے واقعات کے باعث مزید متعلقہ اور اہم ہو گئے ہیں۔ اس لیے جن شعبوں میں ہم تعاون کر سکتے ہیں، ان میں اپنے تعلقات کو عملی جامہ پہنانے کی سمت ہم مزید پیش رفت کریں گے ۔ روبیو نے کہا کہ کواڈ کے ذریعے مسائل کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں اور تمام رکن ممالک کے پاس اپنی منفرد صلاحیتیں ہیں، جنہیں ہم اجتماعی طور پر دنیا کے کچھ اہم ترین مسائل کو حل کرنے کیلئے بروئے کار لا سکتے ہیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ ان مسائل میں توانائی کی سیکیورٹی، جہاز رانی کی آزادی، اور نہ صرف توانائی بلکہ اہم معدنیات و سپلائی چین کو متنوع بنانے کی ضرورت شامل ہے ۔ انہوں نے کہا، “یہ ایسے شعبے ہیں جہاں ہمارے چاروں ممالک، اجتماعی اور انفرادی طور پر، ان مسائل کے حل کیلئے انتہائی اہم وسائل اور صلاحیتیں فراہم کر سکتے ہیں۔”
دوسری طرف، آسٹریلیا کی وزیرِ خارجہ پینی وونگ نے کہا کہ یہ میٹنگ ہند بحرالکاہل خطے اور دنیا کی سمت طے کرنے میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان باتوں پر غور کرنا چاہیے کہ ہم مل کر ایسا کیا کر سکتے ہیں جس سے ہند بحرالکاہل خطے اور اس میں واقع ممالک کو اپنی سیکیورٹی اور اپنے خودمختار مفادات کو برقرار رکھنے کیلئے آزادانہ متبادل حاصل ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آسٹریلیا کے کواڈ میں شامل ہونے کے نقطۂ نظر کا بنیادی ستون یہی ہے ۔
ایک آزاد اور کھلے ہند بحرالکاہل خطے کی وکالت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “ہم سب ہند بحرالکاہل خطے کیلئے ایک ایسے وژن کا اشتراک کرتے ہیں، جو مکمل طور پر آزاد اور کھلا ہو۔