لاکھ جھوٹا ہو یہ وعدہ ہو ضرور
کچھ تو جینے کا بہانہ چاہئے
ہندوستان اور امریکہ کے مابین حالیہ عرصہ میں تعلقات کی نوعیت وہ نہیں رہی ہے جو گذشتہ کچھ برسوں کے دوران تھی ۔ دونوں ملکوں کے مابین انتہائی قریبی تعلقاتاستوار ہوگئے تھے اور دونوںملکوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کیلئے بھی حالات انتہائی سازگار تھے۔ حالیہ عرصہ میں تاہم صورتحال میں تبدیلی دیکھنے میں آئی تھی ۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ خاص طور پر ہندوستان مخالف بیانات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے ۔ ہندوستان کی بارہا تردید کے باوجود ٹرمپ یہ دعوی کرتے رہے کہ انہوں نے ہندوستان و پاکستان کے مابین جنگ رکوائی ہے ۔ انہوں نے ایک سے زائد مرتبہ پاکستان کی ستائش کی ہے ۔ پاکستان کے وزیر اعظم اور فوجی سربراہ کو انہوں نے اپنے پسندیدہ افراد میںشامل کیا تھا ۔ انہیں وائیٹ ہاوز مدعو کیا تھا اور ہندوستان کے تعلق سے ٹرمپ کے رویہ میں مخالفانہ روش واضح طور پر دیکھنے میں آئی تھی ۔ ہندوستان کئی مواقع پر مخالف ہند ریمارکس کئے تھے ۔ روس سے تیل کی خریدی پر انہوں نے تحدیدات عائد کرنے کی کوشش کی تھی ۔ تیل کی خریدی کا سلسلہ جاری رکھنے پر ٹرمپ نے ہندوستان پر شرحوں میں اضافہ کردیا تھا ۔ بھاری شرحیں عائد کرتے ہوئے ہندوستانی معیشت کیلئے مشکلات پیدا کی تھیں۔ ہندوستان نے بھی ٹرمپ کے اقدامات کے نتیجہ میں دونوں ملکوں کے مابین آمادنہ تجارت معاہدہ کو قطعیت دینے سے گریز کیا ہوا ہے ۔ اس معاہدہ میں شامل دفعات کے تعلق سے بھی ہندوستان کو تحفظات اور اعتراضات ہیں۔ ہندوستان نے اپنی تشویش دور ہونے تک معاہدہ پر دستخط سے گریز کیا ہوا ہے ۔اب امریکہ کی جانب سے اس معاہدہ کو قطعیت دینے کی مساعی کی جا رہی ہے اور امریکی سفیر متعینہ ہند نے یہ دعوی کیا ہے کہ معاہدہ تقریبا طئے پاگیا ہے اور اسے ماہ ڈسمبر تک قطعیت دی جاسکتی ہے ۔ ہندوستان نے تاہم کہا کہ ابھی اس تعلق سے کئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے حالانکہ دونوں ملکوں کے عہدیداروں کے مابین اس مسئلہ پر لگاتار مذاکرات اور بات چیت کا سلسلہ جاری ہے ۔
چونکہ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کی نوعیت وہ نہیں رہ گئی ہے جو کچھ عرصہ قبل تک تھی اور دونوںملکوں کے مابین تعلقات میں بھی سرد مہری واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے۔ وزیر اعظم نریندرمودی ہندوستان کے تعلق سے ٹرمپ کے بیانات کی وجہ سے اپنی ناراضگی کا اظہار بھی بالواسطہ طور پر کرچکے ہیں۔ تاہم دیکھا جا رہا ہے کہ حالیہ عرصہ میں ٹرمپ کی جانب سے اپنے رویہ میں نرمی پیدا کی گئی ہے اور وہ ہندوستان اور خاص طور پر وزیر اعظم مودی کے تعلق سے مصالحانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں اور وہ مودی کی ستائش کر رہے ہیں۔ تجارتی اور صنعتی حلقوں کا تاثر ہے کہ مودی کی تعریف کرتے ہوئے ٹرمپ دونوں ملکوں کے مابین آزادانہ تجارتی معاہدہ کو یقینی بنانا چاہتے ہیں اور وہ اپنے بیانات کے ذریعہ ہندوستان میں پائی جانے والی ناراضگی کو دور کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ چاہے جو کچھ بھی کوشش کریں ہندوستان کو اپنے مفادات کے تحفظ پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ ٹرمپ کے بیانات سے ہمیں اپنے فیصلوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ٹرمپ موقع کی مناسبت سے اپنے لب و لہجہ کو تبدیل کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ وہ معاہدہ کی تکمیل تک نرم رویہ اور مصالحانہ لب و لہجہ اختیار کرسکتے ہیں تاہم بعد میں وہ ایک بار پھر مخالف ہند رویہ اور مخالف ہند ریمارکس کا سلسلہ شروع کرسکتے ہیں۔
امریکہ کے ساتھ ہندوستان کو آزادنہ تجارتی معاہدہ کرنا چاہئے ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے تاہم معاہدہ کی تفصیلات کا خاص طور پر باریک بینی سے جائزہ لینا چاہئے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ کسی بھی صورتحال میں ہندوستان اور ہندوستانی تاجروں کے مفادات متاثر ہونے نہ پائیں۔ ٹرمپ ے بیانات کو فیصلے پر اثر انداز ہونے یا اپنے رویہ میں نرمی کی وجہ بننے کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے ۔ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات میں اپنے مفادات کا تحفظ اور معیشت کے استحکام پر توجہ کے ساتھ معاہدہ کو قطعیت دی جاسکتی ہے ۔ ملک کے معاشی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہئے ۔