10 سال میں 10 ملین افراد کی خدمت، ہیومانیٹی ہاسپٹل کے ذریعہ رعایتی شرح پر سوپراسپیشالیٹی خدمات
حیدرآباد۔ 25 اکتوبر (سیاست نیوز) انسانی ہمدردی کے جذبہ کے تحت کئی رضاکارانہ تنظیمیں حیدرآباد میں غریبوں کی مدد کے کام انجام دے رہی ہیں لیکن روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں غریب اور مستحق افراد کو مفت ناشتے کی فراہمی کے ذریعہ ہیومانیٹی فرسٹ فاؤنڈیشن نے اپنی منفرد شناخت بنائی ہے۔ فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر محمد شجاعت اللہ کی نگرانی میں 2016 میں شروع کی گئی مفت ناشتے کی سربراہی اسکیم کے تحت 10 برسوں میں تقریباً 10 ملین افراد کو ناشتہ فراہم کیا گیا۔ ڈاکٹر شجاعت اللہ نے امتحان میں کامیابی کی صورت میں 10 افراد کو کھانا کھلانے کے جذبہ سے اس مہم کا آغاز کیا۔ جس وقت وہ 10 افراد کو کھانا تقسیم کرنے کے لئے پہنچے تو انہوں نے غریبوں کی جس حالت کا شخصی طور پر مشاہدہ کیا اس کے بعد انہوں نے اسے باقاعدہ مہم کی شکل دے دی ہے۔ ابتداء میں ہفتہ میں دو یا تین دن بے گھر افراد کو ڈنر سربراہ کیا گیا تاہم فاؤنڈیشن نے سرکاری دواخانوں کے مریضوں کے ساتھ موجود افراد کو صبح میں ناشتے کی سربراہی کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اس مہم کو آگے بڑھایا۔ فاؤنڈیشن کی جانب سے روزانہ ایک ہزار افراد کو مفت میں ناشتہ سربراہ کیا جاتا ہے اور ہر شخص پر فی کس 5 روپے کے مصارف سے جملہ 5000 روپے کے اخراجات ہوتے ہیں۔ نیلوفر ہاسپٹل میں اضلاع اور دور دراز کے مقامات سے آنے والے مریضوں کے اٹینڈرس کے لئے ناشتے کا اہتمام کیا جانے لگا، بعد میں کوٹھی میٹرنیٹی ہاسپٹل اور نمس میں مفت ناشتے کی سربراہی کا آغاز ہوا۔ کووڈ ۔ 19 کے دوران بھی بلاوقفہ ناشتے کی سربراہی جاری رہی۔ ڈاکٹر شجاعت اللہ نے بتایا کہ 3650 دنوں میں 10 ملین سے زائد افراد کو ناشتہ سربراہ کیا گیا ہے۔ فاؤنڈیشن نے ہاسپٹل میں مالی دشواریوں کے سبب علاج ترک کرنے والے مریضوں کی مدد کے لئے ہیومانیٹی ہاسپٹل قائم کیا جو 24 گھنٹے طبی خدمات ملٹی اسپیشالیٹی سہولتوں کے ساتھ فراہم کررہا ہے۔ عوامی عطیات سے ہاسپٹل کا قیام عمل میں آیا جہاں کارپوریٹ ہاسپٹلس کے مقابلہ 40 تا 50 فیصد کم فیس پر مستحق مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ ہیومانیٹی ہاسپٹل میں 50 تا 60 اہم سرجریاں انجام دی گئیں اور ہر ماہ 150 سے زائد ان پیشنٹ کا علاج کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر شجاعت اللہ نے مفت ناشتے کی سربراہی اور رعایتی طبی خدمات کے ضمن میں معاشی دشواریوں کے باوجود اپنے مشن کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 1؍F