نئی دہلی : تحریک آزادی میں ملک کی بہت سی یونیورسٹیوں کے طلبا و اساتذہ نے اہم کردار ادا کیا لیکن مادر وطن کی آزادی کے حوالے سے عظیم قربانیوں کا نذرانہ پیش کرنے میں جو مقام علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا و اساتذہ کو حاصل ہے ، وہ دوسری یونیورسٹیاں اس کا عشر عشیر بھی نہیں۔ان خیالات کا اظہار سابق آئی پی ایس افسر اورمسلم پسماندہ سماج کے چیف ایم ڈبلیو انصاری نے یہاں جاری ایک مضمون میں کیا۔انہوں نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبا و اساتذہ کو تحریک آزادی میں مادر وطن کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے اور مادر وطن کے لئے سب کچھ قربان کر دینے کا سبق یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خان سے ملا تھا۔ علی گڑھ کے طلبا نے بانی درسگاہ کے قائم کردہ اصول پر چل کر نہ صرف مادر وطن کی آزادی کیلئیملک گیر سطح پر رائے عامہ کو بیدار کیا بلکہ دامے درمے سخن ہر طرح کا تعاون پیش کیا۔انگریز جو 1857کی تحریک آزادی کے لئے مسلمانوں کو ذمہ دار مانتے ہوئے ان پر ستم کے پہاڑ توڑ رہے تھے وہیں سر سید احمد خان نے اسباب بغاوت ہند جیسی دستاویزی کتاب لکھ کر دنیا کو یہ بتادیا کہ 1857 کا انقلاب حکومت برطانیہ کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ تھی۔