یو پی اسمبلی انتخابات کی تیاریاں

   

یہی جمہوریت کا نقص ہے جو تخت شاہی پر
کبھی مکار بیٹھے ہیں کبھی غدار بیٹھے ہیں
ملک کی سب سے بڑی اور سیاسی اعتبار سے اہمیت کی حامل ریاست اترپردیش میں آئندہ سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ آدتیہ ناتھ کی حکومت اپنی دوسری معیاد مکمل کرے گی اور تیسری معیاد کیلئے عوام سے رجوع ہوگی ۔ جہاں بی جے پی نے ابھی سے انتخابی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے وہیں اقتدار کی دعویدار سماجوادی پارٹی کی جانب سے بھی اپنے طور پر تیاریوں کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ ریاست میں سیاسی اہمیت سے محروم ہوجانے والی بہوجن سماج پارٹی بھی اپنے طور پر تیاریوں کا آغاز کرچکی ہے اور وہ بھی عوام کے درمیان جانے لگی ہے ۔ کئی پروگرامس منعقد کرتے ہوئے اپنے کیڈر کو متحرک کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے تو اس نے ریاستی کابینہ میں رد و بدل کرتے ہوئے اپنی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے اور ریاست میں نئے سرے سے فرقہ وارانہ مسائل کو ہوا دی جانے لگی ہے ۔ ویسے تو اترپردیش میں گذشتہ تقریبا دس برس سے ہندو ۔ مسلم کی اور نفرت پر مبنی سیاست کو ہی فروغ دیا جا رہا ہے اور عوامی مسائل کو کہیں پس پشت ڈال کر بلڈوزر راج شروع کردیا گیا ہے تاہم آئندہ اسمبلی انتخابات کو نظر میں رکھتے ہوئے اس طرح کی سرگرمیوں کو مزید شدت کے ساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے ۔ لو جہاد اور دیگر امور کو ماضی میںسیاسی فائدہ کیلئے اٹھانے کے بعد اب تبدیلی مذہب کا مسئلہ اچھالا جا رہا ہے اور معمول کے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے ایک بار پھر سے منافرت کے ماحول کو ہوا دینے سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ مساجد کو نوٹسوں کی اجرائی عمل میںلاتے ہوئے انہیں مسمار کرنے سے بھی یو پی حکومت گریز نہیںکررہی ہے اور اس کی ساری توجہ اسی طرح کے اختلافی اور نزاعی مسائل پر ہی مرکوز ہوکر رہ گئی ہے ۔ یہ تاثر عام ہونے لگا ہے کہ یو پی حکومت ہندو ۔ مسلم جذبات کو بھڑکاتے ہوئے انتخابی اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی حکمت عملی پر ہی آئندہ اسمبلی انتخابات میں بھی اکتفاء کرے گی اور اسی نہج پر کام کیا جا رہا ہے ۔ آئندہ وقتوں میں اس طرح کی سرگرمیوں میںمزید تیزی اور شدت کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔
سماجوادی پارٹی ریاست میں اقتدار پر واپسی کی تیاری کر رہی ہے ۔ اس نے گذشتہ لوک سبھا انتخابات میں ریاست میں جو کامیابی حاصل کی تھی اس کے نتیجہ میں اس کے حوصلے بلند ہیں ۔ اس کے کارکنوں اور قائدین میں جوش و خروش پایا جاتا ہے ۔ اہمیت کی بات یہ ہے کہ گذشتہ لوک سبھا انتخابات کے بعد تقریبا ڈھائی سال گذرنے کے باوجود سماجوادی پارٹی میں کسی طرح کا انحراف نہیں کروایا جاسکا ہے اور نہ کسی طرح کی پھوٹ ڈالی جاسکی ہے ۔ سماجوادی پارٹی اترپردیش اسمبلی انتخابات میںکانگریس کے ساتھ اتحاد کے اشارے بھی دے رہی ہے ۔ حالانکہ ابھی اس تعلق سے باضابطہ طور پر کوئی بات چیت شروع نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی واضح اقدامات کئے گئے ہیں تاہم کہا جا رہا ہے کہ اس تعلق سے دونوں ہی جماعتوںمیںدلچسپی پائی جاتی ہے اور آئندہ وقتوں میں اس تعلق سے کھل کر بات چیت بھی ہوسکتی ہے ۔ دونوں ہی پارٹیوں کے کیڈر میں بھی یہی جذبات دیکھے جا رہے ہیں کہ دونوں پارٹیوں کو اسمبلی انتخابات کیلئے بھی اتحاد کرنا چاہئے تاکہ نتائج بہتر حاصل کئے جاسکیں اور اترپردیش میں بی جے پی حکومت کو اقتدار سے بیدخل کیا جاسکے ۔ دونوں جماعتوں کے کیڈر کا احساس ہے کہ چونکہ لوک سبھا انتخابات میں اتحاد کے ذریعہ نمایاںکامیابی حاصل کی گئی تھی اسی سلسلہ کو برقرار رکھتے ہوئے اسمبلی انتخابات میں بھی دونوںکو اتحاد کرنا چاہئے تاکہ عوام کے سامنے ایک مستحکم متبادل پیش کرتے ہوئے ان کے ووٹ حاصل کئے جاسکیں۔
بی جے پی اور سماجوادی ۔ کانگریس کی اپنی تیاریوں کے دوران بہوجن سماج پارٹی بھی انتخابات کے عین وقت پر سرگرم ہونے لگی ہے ۔ اس کے اثرات کیا کچھ ہوسکتے ہیں اور کس کو اس کی سرگرمیوں سے فائدہ ہوسکتا ہے یہ ابھی کہا نہیں جاسکتا تاہم یہ ضرور ہے کہ بی ایس پی اور دوسے آلہ کار عناصر کے ذریعہ اپوزیشن کے امکانات کو متاثر کرنے کی کوششیں ضرور کی جاسکتی ہیںاور ان کا آغاز بھی ہوچکا ہے ۔ ایسے میں جہاں اپوزیشن کو محتاط اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے وہیں عوام میں ایسی سرگرمیوں کے منفی اثرات اور بی جے پی کو ہونے والے فائدہ سے بھی واقف کروانے کی ضرورت ہے ۔