پولیس ‘آقاؤں کو خوش کرنے فرضی انکاؤنٹر سے بھی نہیں گھبراتی‘عدالت کا ریمارک
لکھنؤ۔7؍جون ( ایجنسیز )الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ اترپردیش پولیس کیلئے آئین نہیں، سیاسی آقاؤں کی خوشی بڑی ہے۔ ان کا واحد مقصد منافع بخش تعیناتی کیلئے انہیں خوش کرنا ہے خواہ اس کیلئے انہیں کسی کی غیر قانونی گرفتاری کرنی پڑے یا فرضی انکاؤنٹر، وہ کرنے سے نہیں گھبراتے۔ انہیں یقین ہے کہ ان کے آقا بچا لیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اتر پردیش میں قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ عہدیداروں کی منمانی اور سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کا کھیل عروج پر ہے۔اس سخت تبصرہ کے ساتھ جسٹس ونود دیواکر کی سنگل بنچ نے غازی آباد کے نند گرام تھانے میں ایک ہی خاندان کے باپ، بیٹے اور بہو کے خلاف گینگسٹر ایکٹ کے تحت زیر التواء مجرمانہ کارروائی خارج کردی۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ عرضی گزار راجندر تیاگی، ان کے بیٹے دیپک تیاگی اور بہو للیتا تیاگی کے خلاف جن 2 ایف آئی آر کو بنیاد بنا کر گینگسٹر ایکٹ لگایا گیا تھا وہ زمین کے لین دین اور مالی تنازعات سے متعلق تھیں۔ ان کی بنیاد پر صرف دھوکہ دہی یا جعلسازی کے الزامات عائد کیے جاسکتے ہیں۔ان بنیادوں پر انہیں کسی منظم گروہ کا رکن نہیں مانا جا سکتا۔ اس کے باوجود پولیس کی اس کارروائی کی وجہ سے خاتون کو غیر قانونی طور سے 80 دن تک جیل میں رہنا پڑا۔ عدالت نے کہا کہ 35 سالہ گھریلو خاتون للیتا تیاگی کو ایف آئی آر درج ہونے کے اگلے ہی دن گرفتار کر لیا گیا جب کہ ان کے خلاف گرفتاری کو صحیح ٹھہرانے والی کوئی بنیاد ریکارڈ پر موجود نہیں تھی۔ لہذا، عدالت نے اس گرفتاری کو بادی النظر میں غیر قانونی، من مانی اور خلاف قانون بتایا۔ اس لاپرواہ کارروائی کی وجہ سے ایک خاتون کو تقریباً 80 دنوں تک عدالتی حراست میں رہنا پڑا۔ پولیس کی اس کارروائی سے برہم عدالت نے اپنے 31 صفحات کے فیصلے میں یوپی پولیس اور اس کے سینئر افسران کے طریقہ کار پر سخت نکتہ چینی کی۔عدالت نے کہا کہ افسران کا ایک بڑا طبقہ قانون کی حکمرانی کو آئینی ذمہ داری نہیں بلکہ اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ مانتا ہے۔ سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کے جنون میں قانون پر عمل نہیں کرنا چاہتے۔ عدالت نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ افسران کی غیر جانبداری ختم ہو چکی ہے اور وہ اپنی کرسیاں بچانے کے لئے ٹارگٹڈ پراسیکیوشن چلا رہے ہیں جب کہ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ پولیس کمشنر اور کپتان کے عہدے سیاست دانوں کی ذاتی دشمنی نبھانے یا ان کے سہولت کار نہیں ہیں۔جب سنگین سے سنگین لاپرواہی پر بھی اعلیٰ افسران کی جوابدہی طے نہیں ہوتی تو ان میں یہ احساس بیٹھ جاتا ہے کہ ان کا کچھ نہیں بگڑے گا۔