یکساں سیول کوڈ کیلئے راہیں ہموار کرنے کی سازش

   

بحث کے ذریعہ نوجوان نسل کو لاء کمیشن کے نظریہ کے حامی بنانے کی کوشش
حیدرآباد۔18فروری(سیاست نیوز) ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی بحث کو معمول کی بات کے طور پر فروغ دینے اور یکساں سیول کوڈ میں کیا ہونا چاہئے یا کیا نہیں ہونا چاہئے کی بحث کے ذریعہ اسے عام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ باور کروایا جارہا ہے کہ ہندستانی شہری اس بحث کے لئے اب تیار ہیں کہ ملک میں یکساں سیول کوڈ پر مباحث کئے جائیں۔ملک میں موجود بی جے پی حکومت کی جانب سے کئے گئے انتخابی وعدہ کی تکمیل کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کے طور پر کی جانے والی ان کاروائیوں پر باریک بینی کے ساتھ نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ قومی سطح پر یکساں سیول کوڈ کے دائرہ کار میں بغیر شادی کے رشتہ میں رہنے والوں کو نہیں لایا جائے گا۔ 22 ویں لاء کمیشن کے رکن نے جو کہ قومی سطح پر یکساں سیول کوڈ کی تیاری میں مصروف ہے نے یہ بات بتائی اور کہا کہ اترکھنڈ میں جو یکساں سیول کوڈ روشناس کروایا گیا ہے اس میں بغیر شادی کے رشتہ میں رہنے والوں پر اپنے رشتہ کو اندرون ایک ماہ رجسٹرڈ کروانے کا لزوم عائد کیا گیا ہے جس پر مختلف گوشوں سے نئی بحث چھڑ چکی ہے ۔ مرکزی حکومت کی ایماء پر یکساں سیول کوڈ کی تیاری میں مصروف 22ویں لاء کمیشن کے ذمہ داروں نے بتایا کہ وہ اس مسئلہ کو یو سی سی کے دائرہ کار میں لانے کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ یہ مسئلہ دو افراد کی نجی زندگی کا مسئلہ ہے جبکہ یونیفارم سیول کوڈ تمام مذاہب میں شادی بیاہ‘ طلاق و علحدگی ‘ وراثت و دیگر عائلی مسائل کو ایک ہی قانون کے تحت حل کرنے کا احاطہ کرتا ہے۔ کمیشن کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ شادی اور بغیر شادی کے رشتہ میں رہنے کے عمل کو یکساں قرارنہیں دیا جاسکتا کیونکہ شادی ایک مقدس رشتہ کا نام ہے اور ایسی تقدیس رشتہ میں نہ رہنے والوں کو حاصل نہیں ہوتی اسی لئے شادی کا لازمی اندراج کروانے کی پابندی عائد کی جاسکتی ہے لیکن رشتہ میں رہنے کے عمل کو اس میں شامل کرنا درست نہیں ہے۔ اتر کھنڈ یکساں سیول کوڈ میں شامل کئے گئے بغیر شادی کے رشتہ رکھنے والے جوڑوں کے سلسلہ میں قوانین پر بحث کرتے ہوئے یکساں سیول کوڈ پر مباحث کو عام کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے ۔لاء کمیشن کی جانب سے کہا جا رہاہے کہ وہ شادی کے بغیر رشتہ میں رہنے والوں کے لازمی رجسٹریشن کو قومی یو سی سی کے دائرہ میں لانے کے حق میں نہیں ہیں جبکہ اتر کھنڈ میں ریاستی حکومت کی جانب سے روشناس کروائے گئے یکساں سیول کوڈ کے بعد ملک کی دیگر ریاستوں بالخصوص گجرات ‘ اترپردیش ‘ آسام میں ان قوانین کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں اپنی اپنی ریاستوں میں نافذ کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں جبکہ لاء کمیشن کے ذمہ داروں کا یہ بھی کہناہے کہ ریاستیں بعض پرسنل لاء کے نفاذ کی مجاز ہوسکتی ہیں لیکن وہ یونیفارم سیول کوڈکی تیاری کی متحمل نہیں ہوسکتی ۔اس طرح کے بحث و مباحث کے ذریعہ یکساں سیول کوڈ کے لئے راہیں ہموار کرنے کی جو سازش کی جا رہی ہے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس طرح کے مباحث کے ذریعہ نہ صرف یکساں سیول کوڈ پر مباحث کو عام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے بلکہ دیگر خباثتوں کو ذاتی زندگی میں مداخلت نہ کرنے کے نام پر نوجوان نسل کو لاء کمیشن کے نظریہ کا حامی بنانے کی کوشش کی جار ہی ہے جو کہ نوجوانوں کو یو سی سی کا حامی بنانے کاسبب بن سکتی ہے۔3