سابق صدر جمہوریہ ہند کی قیادت میں تشکیل کردہ کمیٹی کے مسلسل اجلاس، پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات پر بھی غور
حیدرآباد۔25فروری(سیاست نیوز) الیکشن کمیشن آف انڈیا 2024 عام انتخابات میں ’ایک ملک ایک انتخابات‘ کا تجربہ کرسکتا ہے! مرکزی حکومت کی جانب سے سابق صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند کی نگرانی میں ایک ملک ایک انتخابات کا جائزہ لینے کیلئے تشکیل دی گئی کمیٹی کی مصروفیات کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہندستان میں منعقد ہونے والے 2024 عام انتخابات کے دوران بعض ریاستوں کے انتخابات کو قبل از وقت منعقد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ’ایک ملک ایک انتخابات‘ کا تجربہ کرسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق مسٹر رام ناتھ کوونداس سلسلہ میں روزانہ جائزہ اجلاس منعقد کر رہے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ انتخابی اعلامیہ سے قبل وہ اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کردیں گے ۔ بتایاجاتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی عام انتخابات میں کامیابی کے تمام ہتھکنڈوں کے ساتھ ’ایک ملک ایک انتخابات‘ کا بھی استعمال کرنے کیلئے عام انتخابات کے ساتھ جن 5 ریاستوں میں ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات منعقد ہونے ہیں ان کی تعداد میں اضافہ کی منصوبہ بندی کررہی ہے ۔ 2024 عام انتخابات کے ساتھ ملک کی 4 ریاستوں آندھراپردیش‘ اروناچل پردیش ‘ اوڈیشہ اور سکم اسمبلی کے انتخابات منعقد ہونے ہیں ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے مطابق مہاراشٹرا کے علاوہ ہریانہ جہاں بی جے پی کی حکومت ہے ان ریاستوں میں بھی قبل ازوقت انتخابات کا جائزہ لیا جا رہاہے اور کہا جار ہاہے اگر عام انتخابات کے ساتھ ان ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات منعقد کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں دونوں ریاستوں میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کو انتخابی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔ مہاراشٹرا اور ہریانہ اسمبلی انتخابات جاریہ سال ماہ اکٹوبر میں منعقد ہونے ہیں اس کے علاوہ جموں و کشمیر میں مرکز نے ماہ ستمبر تک کے لئے صدر راج نافذ کیا ہوا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے تیار کی جانے والی حکمت عملی و منصوبہ بندی کے مطابق کشمیر سے 370 کی برخواستگی کا بھی فائدہ اٹھانے کا بی جے پی کیلئے یہ بہترین موقع ہوگا اسی لئے بی جے پی عام انتخابات کے ساتھ مزید 7 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ 2024 عام انتخابات کے ساتھ جن 4 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے جا رہے ہیں ان میں صرف ایک ریاست اروناچل پردیش میں بی جے پی کی حکومت ہے جبکہ سکم میں بی جے پی کا علاقائی سیاسی جماعت سے اتحاد ہے اس کے علاوہ آندھراپردیش میں وائی ایس آر سی پی کی حکومت ہے جو کہ این ڈی اے کا حصہ نہیں ہے اس علاوہ اوڈیشہ میں بیجو جنتادل کی حکومت ہے۔ ذرائع کے مطابق مہاراشٹرا میں بھارتیہ جنتا پارٹی کانگریس قائدین کو پارٹی میں شامل کرنے کی جو مہم چلا رہی ہے اس کا مقصد عام انتخابات نہیں ہیں بلکہ وہ عام انتخابات کے ساتھ ریاستی اسمبلی کے انتخابات کو بھی عام انتخابات کے ساتھ کروانے میں دلچسپی کا مظاہرہ کر رہی ہے اسی لئے قبل از وقت انتخابات کی تیاریوں کے طور پر دیگر پارٹیوں میں پھوٹ ڈالی جا رہی ہے ۔ سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے سیاسی فائدہ کے لئے ’ایک ملک ایک انتخابات‘ پر عمل آوری کو یقینی بنانے کی کوشش میں مصروف ہے اور 2024 عام انتخابات میں تجربہ کے نام پر اسے عملی جامہ پہنائے جانے کے امکانات پائے جانے لگے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے اس سلسلہ میں کوئی اشارے تو نہیں دیئے جا رہے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے ’ایک ملک ایک انتخابات‘ کی تجویز کے بعد سے ہی الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ کہا جا تا رہا ہے کہ وہ اس کیلئے تیار ہے۔سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر رام ناتھ کووند کی نگرانی میں کام کر رہی کمیٹی کی جانب سے ’ایک ملک ایک انتخابات ‘ کے سلسلہ میں سفارش کردی جاتی ہے اور حکومت کی جانب سے عام انتخابات کے دوران 4ریاستی اسمبلیوں کے بجائے 7 ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات منعقد کئے جاتے ہیںتو ایسی صورت میں اپوزیشن جماعتوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں مل پائے گا اور اس کا بھر پور فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی اٹھائے گی لیکن حکومت کی جانب سے ایسا کرنے کی کوشش کی جا تی ہے تو اسے قانونی طور پر چیالنج کرنے کی گنجائش بھی ہوگی اسی لئے حکومت یہ فیصلہ کافی غور و خوص کے بعد ہی کرے گی ۔ 3