سفید راشن کارڈ کی شرط سے کئی غریب خاندان فوائد سے محروم، خواتین کے نام پر گیس کنکشن کی شرط بھی دشوار کن، کانگریس عوامی نمائندوں کی چیف منسٹر سے مشاورت
حیدرآباد ۔ 29 ۔ فروری(سیاست نیوز) حکومت کی دو نئی اسکیمات پر عمل آوری کے سلسلہ میں جو رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے ہیں، ان میں مناسب ترمیم اور غریب خاندانوں کو شرائط میں نرمی کیلئے مختلف گوشوں سے نمائندگی کی جارہی ہے۔ ریونت ریڈی حکومت نے الیکشن میں عوام سے کئے گئے وعدوں پر عمل آوری کے سلسلہ میں دو ضمانتوں کے احکامات جاری کئے ۔ گروہا لکشمی اسکیم کے تحت غریب اور مستحکم خاندانوں کو ماہانہ 200 یونٹ مفت برقی کی سربراہی کا فیصلہ کیا گیا جبکہ مہا لکشمی اسکیم کے تحت غریبوں کو پکوان گیس سلینڈر 500 روپئے میں سربراہ کیا جائے گا۔ متعلقہ محکمہ جات کی جانب سے دونوں اسکیمات کے سلسلہ میں جو رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے ، ان میں درخواست گزاروں کے پاس سفید راشن کارڈ کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ تلنگانہ میں کئی غریب خاندان ایسے ہیں جن کے پاس راشن کارڈ موجود نہیں ہے اور 6 ضمانتوں کے اعلان کے وقت اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی تھی کہ سفید راشن کارڈ ہولڈر ہی اسکیمات سے استفادہ کرپائیں گے۔ گائیڈ لائینس کی اجرائی کے بعد ریاستی وزراء اور کانگریس کے عوامی نمائندوں پر مختلف گوشوں سے دباؤ بنایا جارہا ہے کہ شرائط میں ترمیم کی جائے ۔ سفید راشن کارڈ کی شرط کے بجائے سالانہ آمدنی یا پھر کوئی اور ایسی شرط رکھی جائے جس پر غریب اور متوسط طبقات بآسانی عمل کرسکیں۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر ریونت ریڈی نے عہدیداروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مزید غریب خاندانوں کو اسکیمات کے دائرہ میں شامل کرنے کیلئے موجودہ شرائط کا جائزہ لیں اور حکومت کو سفارشات پیش کریں۔ لوک سبھا الیکشن سے قبل حکومت نے مزید دو ضمانتوں پر عمل آوری کا اعلان کیا ہے ۔ گروہا جیوتی اسکیم کے تحت اہل خاندانوںکو ماہانہ 200 یونٹ برقی مفت سربراہ کی جائے گی۔پرجا پالنا یا پرجا پارلنا پورٹل پر داخل کی گئی درخواستوں پر غور کیا جائے گا ۔ درخواست گزار کے پاس سفید راشن کارڈ کا آدھار کار ڈ سے لنک ہونا ضروری ہے۔ ہر ماہ 200 یونٹ سے زائد برقی کے استعمال کی صورت میں 200 یونٹ تک کا بل شامل نہیں کیا جائے گا۔ پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن کی جانب سے ہر ماہ کی 20 تاریخ کو گروہا جیوتی اسکیم کی سبسیڈی کی تفصیلات حکومت کو روانہ کی جائے گی۔ اگر کوئی درخواست گزار برقی کو گھریلو اغراض کے علاوہ استعمال کرتا ہے تو اس کے خلاف الیکٹرسٹی ایکٹ 2003 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ اسکیم پر فوری عمل آوری کا آغاز ہوگا اور مارچ 2024 کے بلزسے 200 یونٹ کی رعایت رہے گی۔ مہا لکشمی اسکیم کے تحت 500 روپئے میں پکوان گیس سلینڈر کے حصول کے لئے درخواست گزار کا وائیٹ راشن کارڈ ہولڈر ہونا ضروری ہے۔ درخواست گزار کے نام پر گھریلو ایل پی جی کنکشن ہونا چاہئے ۔ اسکیم کے تحت استفادہ کنندگان کو سلینڈر کی مکمل قیمت ادا کرنی ہوگی جبکہ سبسیڈی کی رقم بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی۔ ریاستی حکومت سبسیڈی کی رقم ماہانہ اساس پر آئیل مارکیٹنگ کمپنیوں کو منتقل کرے گی اور یہ کمپنیاں سبسیڈی کی رقم استفادہ کنندہ کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کریں گے ۔ ضلع کلکٹرس کو اسکیم پر عمل آوری کی نگرانی کی ذمہ داری دی گئی ہے اور وہ اسکیم کے بارے میں شعور بیداری مہم چلائیں گے۔ اسکیم پر عمل آوری پرجا پالنا پورٹل کے ذریعہ ہوگی اور سیول سپلائیز ڈپارٹمنٹ استفادہ کنندگان کی تفصیلات اور سبسیڈی کا ریکارڈ برقرار رکھے گا۔ واضح رہے کہ حکومت نے 6 ضمانتوں پر عمل آوری کے سلسلہ میں پرجا پالنا پروگرام میں جو درخواستیں وصول کی ہیں ، وہ خواتین کے نام پر ہیں ، لہذا ایل پی جی کنکشن بھی درخواست گزار خاتون کے نام پر ہونا ضروری ہے۔ 1