آدھار اَپ ڈیٹ کرنے کے علاوہ KYC کی تکمیل، درمیانی افراد بھی سرگرم، عوام اُلجھن میں
حیدرآباد۔/24 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کی کانگریس حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 6 ضمانتوں کے اہل امیدواروں سے درخواستوں کی وصولی کے شیڈول کا آج باقاعدہ اعلان کیا گیا لیکن گذشتہ دو ہفتوں سے عوام می سیوا مراکز پر نئی اسکیمات کے فوائد کیلئے نام درج کرانے اور اپنے آدھار کارڈ کو اپ ڈیٹ کرنے کیلئے قطاروں میں دیکھے جارہے ہیں۔ یہ صورتحال عام آدمی کیلئے تکلیف دہ بن چکی ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے کوئی واضح اعلان نہیں کیا گیا جس کے نتیجہ میں عوام فوائد سے محرومی کے خوف سے می سیوا مراکز پر جمع ہورہے ہیں۔شہر اور اضلاع میں می سیوا مراکز پر دن بھر عوام کا ہجوم دیکھا جارہا ہے جو 2500/- روپئے مالی امداد، 500/- روپئے میں گیس سلینڈر اور دیگر اسکیمات کے بارے میں معلومات حاصل کررہے ہیں۔ حکام کی جانب سے بارہا وضاحت کے باوجود گذشتہ ایک ہفتہ سے می سیوا مراکز پر قطاریں دیکھی جارہی ہیں۔ عوام کو اندیشہ ہے کہ تاخیر سے رجوع ہونے پر وہ اسکیمات سے محروم ہوجائیں گے لہذا وہ تمام دستاویزات کو اپ ڈیٹ کرنے میں مصروف ہیں۔ حیدرآباد میں سرکاری سطح کے 45 می سیوا مراکز ہیں ان میں موتی نگر، وجئے نگر کالونی، سنتوش نگر، کرمن گھاٹ، ریتی باؤلی، قطب اللہ پور اور ونستھلی پورم پر صبح سے شام تک قطاریں دیکھی جارہی ہیں۔ ہجوم سے نمٹنے کیلئے زائد کاؤنٹرس کھولے گئے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ سردی کے باوجود وہ علی الصبح می سیوا کے باہر قطار میں کھڑے ہیں تاکہ ٹوکن حاصل کرتے ہوئے اپنے آدھار کوKYC سے اپ ڈیٹ کرسکیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اسکیمات سے فائدہ پہنچانے کا لالچ دے کر درمیانی افراد سرگرم ہوچکے ہیں اور عوام سے بھاری رقومات کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف گیس کمپنیوں کی جانب سے وضاحت کے باوجود 5 سو روپئے سلینڈر حاصل کرنے کیلئے لوگ ایل پی جی کے مقامی ڈسٹری بیوٹرس کے دفاتر میں جمع ہورہے ہیں تاکہ KYC کا عمل مکمل کریں۔ اسی دوران تلنگانہ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرس اسوسی ایشن نے بتایا کہ KYC اپ ڈیٹ کرنے کی مرکزی حکومت نے ہدایت دی ہے لیکن کسٹمرس اسے ریاستی حکومت کی اسکیم سے مربوط کررہے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد میں 175 ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرس ہیں اور ہر ایک کے پاس کسٹمرس کی تعداد 500 تا 800 ہے۔ اسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ 500 روپئے گیس سلینڈر کے بارے میں تاحال کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ر