سوشیل میڈیا کی طاقت ، چیف منسٹر آفس کی مداخلت ، ایرپورٹ پر مستقل ڈیوٹی
حیدرآباد ۔ 6 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے سب سے منفرد ملازم 214 سنٹی میٹر ’ تقریبا 7 فٹ ‘ کے حامل امین احمد انصاری ایک بار پھر شہ سرخیوں میں ہے ۔ انتظامی پیچیدگیوں اور طویل جدوجہد کے بعد بالآخر انہیں ان کے قد کے مطابق مناسب ذمہ داری سونپ دی گئی ہے ۔ گزشتہ سال چیف منسٹر ریونت ریڈی نے امین انصاری کے غیر معمولی قد کو مد نظر رکھتے ہوئے خصوصی احکامات جاری کئے تھے ۔ انہیں آر ٹی سی بس میں کنڈاکٹر کی مشقت بھری ڈیوٹی کے بجائے دفتر میں کام دیا جائے ۔ اس وقت کے آر ٹی سی منیجنگ ڈائرکٹر سجنار موجودہ پولیس کمشنر حیدرآباد نے انہیں مہدی پٹنم بس ڈپو میں ڈیٹا انٹری آپریٹر مقرر کیا تھا ۔ تاہم یہ ذمہ داری صرف ایک سال کے لیے تھی ۔ مدت ختم ہونے کے بعد انہیں دوبارہ بسوں میں دھکے کھانے کے لیے مجبور ہونا پڑا ۔ مدت ختم ہونے سے قبل انہوں نے بس بھون کے چکر کاٹے مگر ان کی فریاد کو کسی نے نہیں سنا جس پر وہ پرانی کنڈاکٹر کی ڈیوٹی سے رجوع ہوگئے ۔ جب امین انصاری کو دوبارہ بسوں میں کنڈاکٹر کی ڈیوٹی کرنی پڑی تو ان کے قد کی وجہ سے انہیں بس میں چلنے پھرنے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا ۔ مسافروں نے ان کی ویڈیوز سوشیل میڈیا پر شیئر کی ۔ ویڈیوز وائرل ہوتے ہی چیف منسٹر کے دفتر ( CMO ) نے فوری ایکشن لیا اور آر ٹی سی حکام کو طلب کرلیا ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آر ٹی سی انتظامیہ نے امین انصاری کی مشکل کا مستقل حل نکال لیا ہے ۔ انہیں اب راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ پر واقع آر ٹی سی دفتر میں تعینات کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں چونکہ بسوں کے اندر ان کا قد رکاوٹ بنتا تھا ۔ اس لیے اب وہ ایرپورٹ کے وسیع دفتر میں اپنی خدمات انجام دیں گے جہاں انہیں کام کرنے میں کوئی جسمانی دشواری پیش نہیں آئے گی ۔۔ 2/m/b