کولکاتا: مرکزی وشو بھارتی یونیورسٹی میں 84گھنٹے تک طلبا کے قید سے رجسٹرار، پبلک ریلیشن آفیسر اور وشو بھارتی کے سابق ایکٹنگ رجسٹرار کو پولیس نے جمعرات کی رات کو رہا کرالیا ہے ۔طلباء پیر سے وشو بھارتی کے مرکزی دفتر میں رجسٹرار آشیش اگروال، تعلقات عامہ کے افسر آتک گھوش اور سابق قائم مقام رجسٹرار اشوک مہتو کو گھیر کر احتجاج کر رہے تھے ۔وشو بھارتی یونیورسٹی کے کیمپس میں آف لائن تعلیم شروع ہوگئی ہے ۔ تاہم ہاسٹل بند ہے ۔ طلبا اسی وجہ سے ناراض ہیں ،دو ر دراز سے آنے والے طلبا کو رہائش کا مسئلہ ہے ۔ ہاسٹل کھولنے کے لئے طلبا مطالبہ کررہے ہیں مطالبے پر منتج ہوئی۔ ہاسٹل کھولنے سمیت مختلف مطالبات کو لے کر پیر سے طلباء احتجاج کررہے ہیں ۔طلبا نے رجسٹرار اور دیگر افسران کا محاصرہ کرلیا ۔انہیں 84گھنٹے تک قیدی بنائے رکھا۔۔ انہیں 84 گھنٹے تک محاصرے میں رکھا ۔ چہارشنبہ کو کلکتہ ہائی کورٹ میں وشو بھارتی کی جانب سے ایک رٹ پٹیشن دائر کی گئی تھی۔کلکتہ ہائی کورٹ نے طلبا کو محاصرہ ختم کرنے اورافسران کو رہاکرنے کی ہدایت دی تھی۔عدالت کے فیصلے کے بعد جمعرات کی رات کو شانتی نکیتن تھانے کی پولیس وشو بھارتی کے مرکزی دفتر گئی۔ محاصرے سے رجسٹرار سمیت دو اہلکاروں کو رہا کر دیا۔مظاہرین کے مطابق پولیس انتظامیہ نے آکر رجسٹرار کو باہر نکالا۔ گرودیو کی مٹی میں پولیس کا داخلہ قابل مذمت ہے ۔ وشو بھارتی انتظامیہ طلبا سے مشورہ کیے بغیر عدالت چلے گئے ۔ لیکن ہماری تحریک جاری رہے گی۔ مشکل میں پڑنے والے تمام طلباء مرکزی دفتر میں رہیں گے ۔