حوثی، جنہیں وہ خود عموماً انصاراللہ کہتے ہیں۔ یہ یمن کا ایک مسلح سیاسی و مذہبی گروہ ہے۔ اس کی جڑیں شمالی یمن کے ایک صوبہ صعدہ کی زیدی شیعہ برادری میں ہے لیکن آج یہ صرف مذہبی تحریک نہیں بلکہ یمن کے بڑے حصہ پر قابض ایک طاقتور فوجی، سیاسی اور انتظامی قوت ہے۔ حوثیوں کا تعارف : حوثیوں کا ان کے بانی حسین بدرالدین الحوثی سے نکلا ہے۔ یہ تحریک 1990ء کی دہائی میں شمالی یمن میں ابھری جہاں زیدی برادری کو محسوس ہوتا تھا کہ حکومت ان کے علاقے مذہبی شناخت اور سیاسی حقوق کو نظرانداز کررہی ہے۔ حوثی اپنا سرکاری نام انصاراللہ رکھتے ہیں۔ ان کے موجودہ قائد عبدالملک الحوثی ہیں۔ ان کا مرکزی گڑھ صعدہ اور شمالی یمن ہے جبکہ وقت کے ساتھ انہوں نے دارالحکومت صنعاء اور بحیرہ احمر کے متعدد علاقوں میں بھی اپنا اثر قائم کیا۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہیکہ ہر زیدی مسلمان حوثی نہیں ہوتا۔ حوثی ایک مخصوص سیاسی، عسکری اور نظریاتی تحریک ہے۔ اسے پورے زیدی مذہبی طبقہ کا نمائندہ سمجھنا درست نہیں۔
تحریک کیسے وجود میں آئی : حوثی تحریک کے ابھرنے کی چند بڑی وجوہات یہ تھیں۔
٭ شمالی یمن میں زیدی مذہبی و ثقافتی شناخت کے کمزور ہونے کا خوف
٭ صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت کے خلاف سیاسی اور معاشی شکایات
٭ امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف شدید ردعمل
٭ سعودی عرب اور یمن کی مرکزی حکومت کے بڑھتے ہوئے اثرات کی مخالفت
مذہبی تعلیم، سماجی تنظیم اور مقامی قبائلی نیٹ ورک کا پھیلاؤ
2003ء میں عراق پر امریکی حملہ کے بعد حوثیوں نے امریکہ، اسرائیل اور یہودی مخالف نعرے اپنائے۔ ان نعروں نے انہیں ایک مزاحمتی اور انقلابی تحریک کے طور پر پیش کرنے میں مدد دی۔ اگرچہ ان کی عملی سیاست کا بنیادی مرکز یمن ہی رہا۔
یمن میں ان کا عروج حوثیوں اور یمنی حکومت کے درمیان 2004ء سے 2010ء تک کئی جنگیں ہوئیں۔ ابتداء میں وہ ایک مقامی مسلح تحریک تھے لیکن بعد میں انہیں جنگی تجربہ، قبائلی حمایت اور بیرونی مدد حاصل ہونے لگی۔ 2011ء میں بہار کے دوران علی عبداللہ صالح اقتدار سے الگ ہوئے۔ اس کے بعد یمن میں سیاسی انتشار پیدا ہوا۔ عبوری حکومت، معاشی مشکلات، قبائلی کشمکش اور کمزور ریاستی اداروں نے حوثیوں کو آگے بڑھنے کا موقع دیا۔ 2014ء میں حوثیوں نے صنعاء پر قبضہ کرلیا۔ 2015ء میں صدر عبداللہ منصور ہادی ملک سے باہر چلے گئے جس کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی۔ اس جنگ نے یمن کو شدید انسانی بحران، غربت، قحط، بیماری اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی سے دوچار کیا۔ ان کے بڑے اہداف کیا ہیں۔ حوثیوں کے اہداف کو تین سطحوں پر سمجھا جاسکتا ہے :
(1) یمن کے اندر اقتدار۔ ان کا بنیادی مقصد یمن میں فیصلہ کن سیاسی اور عسکری طاقت بننا ہے۔ وہ اپنے زیرقبضہ علاقوں میں انتظامیہ، عدالتیں، سیکوریٹی ادارے اور ٹیکس نظام چلاتے ہیں۔ عملی طور پر ان کے اہداف میں شامل ہے۔
٭ صنعاء اور شمالی یمن پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا
٭ مرکزی حکومت اور مخالف دھڑوں کو کمزور کرنا
٭ یمن کے سیاسی مستقبل میں اہم یا غالب فریق بننا
٭ اپنے مخالف قبائل، جماعتوں اور حکومتی فورسز کو زیرکرنا
٭ مذاکرات میں اپنی فوجی طاقت کو سیاسی فائدے میں تبدیل کرنا
(2) علاقائی اثرورسوخ: حوثی خود کو ایران کے زیراثر مزاحمتی محور کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ایران انہیں اسلحہ، تربیت، ٹیکنالوجی، مشاورت اور سیاسی مدد فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ حوثی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایران کے تابع نہیں بلکہ آزاد یمنی تحریک ہیں۔ تجزیوں کے مطابق ان کے ایران سے قریبی تعلقات ضرور ہیں لیکن ان کے تمام فیصلے براہ راست تہران کے حکم پر نہیں ہوتے۔ یمن کے اندرونی مفادات بھی ان کی پالیسی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ان کے علاقائی مقاصد میں یہ چیزیں شامل سمجھی جاتی ہیں۔سعودی عرب پر سیاسی اور عسکری دباؤ ڈالنا۔امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے خلاف مزاحمتی کردار ادا کرنا۔خود کو صرف یمنی گروہ نہیں بلکہ علاقائی طاقت کے طور پر منوانا۔
(3) اسرائیل، امریکہ اور بحری جہازوں کو ٹارگٹ کیوں کرتے ہیں۔حوثی امریکہ اور اسرائیل کو اپنا بڑا دشمن مانتے ہیں۔ غزہ کی جنگ کے بعد انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ فلسطینیوں کی حمایت میں اسرائیل جانے والے یا اسرائیل سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ ان کے حملوں میں عموماً یہ ذرائع استعمال ہوتے ہیں۔ ڈرون، بیالسٹک اور کروز میزائل، سمندری ڈرون یا بارودی کشتیاں، بحری جہازوں پر قبضے یا انہیں روکنے کی کوشش، لیکن عملی صورتحال میں کئی ایسے تجارتی جہاز بھی متاثر ہوئے جن کا اسرائیل سے واضح تعلق ثابت نہیں تھا۔ اس وجہ سے بحرہ احمر میں جہازرانی، عالمی تجارت، انشورنس اور تیل کی ترسیل پر اثر پڑا۔ باب المندب ایک انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے جو بحرہ احمر کو خلیج عدن اور بحرہند سے سے ملاتی ہے۔ اس راستہ پر دباؤ ڈال کرحوثی عالمی طاقتوں سعودی عرب اور دیگر ممالک پر سیاسی و معاشی دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق بندرگاہ پر قبضہ کے بعد ان کی پوزیشن باب المندب کے قریب مزید مضبوط ہوئی ہے۔
یہ سعودی عرب کو نشانہ کیوں بناتے ہیں: حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان دشمنی کی بنیادی وجوہات یہ ہیں۔ سعودی عرب نے 2015ء میں حوثیوں کے خلاف جنگی اتحاد کی قیادت کی تھی۔ حوثی سعودی حکومت کو یمن کی سیاست میں مداخلت کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ سعودی عرب یمنی حکومت اور حوثی مخالف فورسز کی مدد کرتا رہا ہے۔ حوثی سعودی سرحدی علاقوں، ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور فوجی اڈوں پر میزائیل و ڈرون حملے کرچکے ہیں۔
ایران سے تعلق کی نوعیت : حوثیوں اور ایران کے تعلق کو سمجھنے کیلئے دو باتیں ایک ساتھ ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ پہلی بات یہ کہ ایران نے حوثیوں کو جدید ماڈل میزائل، ڈرون، ٹیکنالوجی، تربیت، مشاورت اور سیاسی حمایت فراہم کی ہے۔ امریکی اور علاقائی حکام کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب حزب اللہ اور بعض عراقی مسلح گروہوں کی مدد نے حوثیوں کو ایک مقامی گروہ سے مضبوط فوجی طاقت میں تبدیل کرنے میں کردار ادا کیا۔
دوسری بات یہ کہ حوثی خود کو مکمل طور پرایران کے کنٹرول میں موجود تنظیم نہیں سمجھتے جاتے ان کے فیصلوں میں یمن کے قبائلی حالات، اقتدارکی خواہش، سعودی عرب سے تنازعہ اور مقامی سیاسی مفادات بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس لئے بہتر تعریف یہ کہ حوثی ایران کے قریب اور اس سے مدد لینے والا مگر اپنے مقامی مفادات رکھنے والا مسلح گروہ ہے۔
کیا حوثی دہشت گرد ہیں: اس سوال کا جواب ملک اور ادارے کے لحاظ سے مختلف رہا۔ بعض حکومتوں نے انہیں دہشت گرد یا دہشت گردی سے وابستہ گروہ قرار دیا جبکہ دوسرے ممالک انہیں یمن کی جنگ کا ایک فریق یا سیاسی و عسکری تحریک سمجھتے ہیں۔ (بشکریہ چیاٹ جی پی ٹی)
سید عبدالمجید عارف … حسن نگر حیدرآباد