آرٹیفشل انٹلیجنس کا انقلاب، ہندوستان میں 92 فیصد رسائی

   

ترقی یافتہ ممالک کے مقابلہ ترقی پذیر ممالک میں نئی ٹکنالوجی کی پذیرائی
حیدرآباد ۔17۔ اپریل (سیاست نیوز) انفارمیشن ٹکنالوجی کی ترقی کے اس دور میں آرٹیفشل انٹلیجنس نے ہر شعبہ میں ایک نیا انقلاب برپا کیا ہے۔ سماج میں ہر سطح پر آرٹیفشل انٹلیجنس کے استعمال میں اضافہ ہوا اور عالمی سطح پر اس ٹکنالوجی کو اختیار کرنے میں ہندوستان سرفہرست ہے۔ آرٹیفشل انٹلیجنس کے استعمال سے متعلق سروے میں اسپین اور برازیل دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہے۔ ہندوستان میں 92 فیصد آرٹیفشل انٹلیجنس کا استعمال درج کیا گیا جبکہ اسپین میں 78 اور برازیل میں 76 فیصد اے آئی کو اختیار کیا گیا ہے ۔ ساؤتھ افریقہ میں 72 فیصد اے آئی کا استعمال ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ ، برطانیہ ، جرمنی ، فرانس ، جاپان اور اٹلی جیسے ترقی یافتہ ممالک میں آرٹیفشل انٹلیجنس کے استعمال کا رجحان ترقی پذیر ممالک کے مقابلہ کم ہے۔ آرٹیفشل انٹلیجنس کے دنیا بھر میں تیزی سے پھیلاؤ کے باوجود ترقی یافتہ ممالک میں اسے اس تیزی سے اختیار نہیں کیا جتنا کہ ترقی پذیر ممالک کر رہے ہیں۔ ہندوستان نے ہر شعبہ میں اے آئی کے استعمال کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اے آئی کے استعمال کے ذریعہ نہ صرف ٹکنالوجی اور عوامی خدمات کو بہتر بنایا جارہا ہے جبکہ تفریحی شعبہ میں بھی ٹکنالوجی نے رسائی حاصل کرلی ہے۔ جاپان میں 51 اور امریکہ میں اے آئی کا استعمال 64 فیصد ہے۔ برطانیہ اور اٹلی میں 68 فیصد اور جرمنی میں 67 فیصد افراد کو نئی ٹکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے پایا گیا۔ امید کی جارہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اے آئی ٹکنالوجی دنیا بھر میں ہر کسی کی زندگی میں لازم و ملزوم بن جائے گی۔m/b/1/k