بی جے پی اور جن سینا کو ایک ایک نشست، تلگودیشم دو پر مقابلہ کرے گی
حیدرآباد۔ 26 اپریل (سیاست نیوز) آندھرا پردیش میں راجیہ سبھا کی 4 نشستوں کے لئے امیدواروں کے انتخاب کے مسئلہ پر تلگودیشم زیر قیادت این ڈی اے میں مذاکرات جاری ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ ٹاملناڈو میں بی جے پی کے سابق ریاستی صدر کے اناملائی کو آندھرا پردیش سے راجیہ سبھا کے لئے منتخب کیا جاسکتا ہے۔ جون میں 4 نشسیں خالی ہورہی ہیں اور توقع ہے کہ بی جے پی اور جن سینا کو ایک ایک نشست الاٹ کی جائے گی جبکہ تلگودیشم دو نشستوں پر اپنے امیدواروں کو منتخب کرے گی۔ چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے حلیف قائدین سے مشاورت کے بعد نشستوں کے الاٹمنٹ کو قطعیت دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی کی قومی قیادت نے آندھرا پردیش سے کے اناملائی کو راجیہ سبھا بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اناملائی سابق آئی پی ایس عہدیدار ہیں اور ٹاملناڈو میں بی جے پی کے موقف کو بہتر بنانے میں وہ راجیہ سبھا کے رکن کی حیثیت سے اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ آندھرا پردیش میں جن سینا کے 21 ارکان اسمبلی ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ پون کلیان کے بااعتماد رفیق ایل رمیش کو راجیہ سبھا کے لئے نامزد کیا جائے گا۔ تلگودیشم پارٹی میں 2 نشستوں کے لئے کئی دعویدار ہیں۔ چندرا بابو نائیڈو کے فرزند اور وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی نارا لوکیش نے راجیہ سبھا کے لئے اپنے قریبی ایس ستیش کے نام کی سفارش کی ہے۔ انہیں پارٹی میں نائب صدر کا عہدہ پہلے ہی دیا جاچکا ہے۔ اگر راجیہ سبھا کے لئے ان کا نام غور نہیں کیا گیا تو بھارت بائیوٹیک کمپنی کے سربراہ کرشنا ایلا پارٹی کی اولین ترجیح رہیں گے۔ چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو سے کرشنا ایلا کے قریبی روابط ہیں اور انہیں راجیہ سبھا کے لئے منتخب کرنے پر آندھرا پردیش میں سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ راجیہ سبھا کے لئے پارٹی کی سطح پر دیگر دعویداروں میں سینئر قائدین وائی رام کرشنوڈو، بی اوما مہیشور راؤ، کے رام موہن راؤ، وی رامیا اور احمد شریف شامل ہیں۔ 1؍F