میناکشی نٹراجن کے پرچہ نامزدگی کے استرداد اور پی سی سی صدر کے خلاف ریمارکس پر کارروائی سے گریز پارٹی کی کمزوری کی علامت
حیدرآباد۔16۔جون(سیاست نیوز) ’جو لوگ دوسروں کیلئے گڑھے کھود تے ہیں ایک دن خود ان میں گرجاتے ہیں ۔ تلنگانہ کانگریس میں مسلم قائدین کی صورتحال فی الحال کچھ اسی طرح کی ہوچکی ہے اور تلنگانہ کانگریس قائدین سرکردہ مسلم قائدین کو بھی غیر اہم اور غیر ذمہ دار ثابت کرنے لگے ہیں۔ میناکشی نٹراجن کے پرچہ نامزدگی کے استرداد کا معاملہ ہویا پارٹی کے ریاستی صدر کے خلاف نازیبا ریمارکس کا معاملہ ہوان معاملوں میں پارٹی کے مسلم چہروں کے نام نے برسراقتدار جماعت میں مسلم قیادت کو مجروح کردیا ہے ۔تلنگانہ پردیش کانگریس کی 2023 اسمبلی انتخابات میں مسلم رکن اسمبلی کے انتخاب میں ناکامی کے بعد سے ہی ریاست میں کانگریس مسلم قیادت کے فروغ میں ناکام ہونے لگی تھی لیکن کانگریس مسلم قائدین کے درمیان جاری ایک دوسرے کے خلاف سازشوں کے نتیجہ میں پارٹی کے مسلم قائدین کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ میناکشی نٹراجن سے متعلق سمن کی تفصیلات بی جے پی کو پہنچانے کے معاملہ میں بھی مسلم چہرہ کے نام نے پارٹی کے دیگر قائدین کو حیرت زدہ کیا ہوا ہے جبکہ کاماریڈی میں ’وائرل کال ریکارڈ‘ جس میں محمد علی شبیر نے صدرپردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ پر رشوت اور شراب کی بنیاد پر عہدوں کی تقسیم کا الزام عائد کرنے کے ساتھ انتہائی گھٹیا الزامات عائد کئے ہیںوہ بھی پارٹی کی ساکھ کو شدید متاثر کررہا ہے ۔ پارٹی قائدین کا کہناہے کہ اگر محمد علی شبیر کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی اور ان کے استدلال کو قبول کرکے ’وائرل آڈیو کلپ‘ کو آرٹیفیشل انٹلیجنس سے تیار کردہ قبول کیا جاتا ہے تو مستقبل میں ہر کوئی یہ دعویٰ کرکے خود پر عائد الزام کو ’AI‘ جنریٹڈ قرار دے کر بچالے گا اور پارٹی کمزور ہوجائے گی۔ گاندھی بھون میں گذشتہ دنوں دو مسلم انچارجس کے درمیان ہاتھا پائی اور تمام ویڈیو ز کے میڈیا میں نشر ہونے کے کے باوجود کسی کے خلاف کارروائی نہ کئے جانے کے بعد یہ کہا جانے لگا ہے کہ کانگریس قیادت اس قدر کمزور ہوچکی ہے کہ قائدین کی و وزراء کی موجودگی میں ہنگامہ آرائیوں پر بھی کاروائی سے قاصر ہے اور اب پارٹی میں ڈسپلن نہیں رہا اسی لئے محمد علی شبیر جیسے قد آور قائدین بھی پارٹی قیادت کے متعلق ریمارکس کررہے ہیں اور پارٹی کے سرکردہ عہدہ پر فائز میناکشی نٹراجن کے پرچۂ نامزدگی کو مسترد کروانے کی سازش میں ملوث افراد کے خلاف تحقیقات میں جن ناموں کا تذکرہ کیا جا رہاہے ان میں بھی مسلم سازشی عناصر کے شامل ہونے کے دعوے کئے جا رہے ہیں جنہوں نے عدالت سے سمن حاصل کرکے ’مدھیہ پردیش‘ تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔3/k/b