آگرہ قلعہ کی مسجد کی سیڑھیوں کے نیچے مورتیاں ہونے کا دعویٰ

   

نئی دہلی : اترپردیش میں متھرا ڈیویژن فاسٹ ٹرکٹ کورٹ میں آگرہ کی بیگم صاحبہ مسجد کی سیڑھیوں کے نیچے ٹھاکر کیشودیو کی مورتی ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک عرضی داخل کی گئی ہے۔ جسٹس نیرج گوڑ کی بنچ کے روبرو دائر کی گئی عرضی عدالت سے بیگم صاحبہ مسجد آگرہ کی سیڑھیوں کے نیچے دبے ٹھاکر کیشودیو کی مورتی کو نکالنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اب اس معاملہ پر آئندہ سماعت 23 جنوری 2023ء کو ہوگی۔ شری کرشن جنم بھومی مکتی نیاس کے صدر ایڈوکیٹ مہیندر پرتاپ سنگھ نے متھرا کی فاسٹ ٹریک کورٹ میں داخل عرضی میں دعویٰ کیا کہ اورنگ زیب نے مبینہ طور پر بھگوان کرشن کے مندر کو گرایا اور ٹھاکر کیشودیو کی مورتی کو آگرہ بھیج دیا جسے مسجد کی سیڑھیوں میں دفن کیا گیا۔ ایک اور اطلاع کے مطابق عدالت سے مطالبہ کیا ہیکہ بیگم صاحبہ کی مسجد کی سیڑھیوں سے لوگوں کی آمدورفت کو بند کردیا جائے اور سیڑھیوں کے نیچے دفن مورتی کو دوبارہ ٹھاکر کیشودیو مندر میں نصب کیا جائے۔