نئی دہلی :سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ کے ‘پردھان منتری آیوشمان بھارت ہیلتھ انفراسٹرکچر مشن (پی ایم-اے بی ایچ آئی ایم ) کو نافذ کرنے کے لیے مرکزی حکومت کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر دہلی حکومت کے دستخط کرنے کے حکم پر آج روک لگادی ۔ جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح کی بنچ نے دہلی حکومت کی طرف سے دائر درخواست پر روک لگانے سے متعلق یہ حکم دیا۔ بنچ نے اس معاملے میں مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس سے جواب طلب کیا ہے ۔دہلی کے سبھی ساتوں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ نے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی جس میں آیوشمان بھارت اسکیم کے نفاذ کے لیے ہدایات جاری کرنے کی درخواست کی گئی تھی ۔ اسی بنیاد پر ہائی کورٹ نے دسمبر 2024 میں دہلی حکومت کو یہ ہدایات دی تھیں۔سپریم کورٹ کے سامنے اس حکم کو چیلنج کرنے والی درخواست پر دہلی حکومت کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل اے ایم سنگھوی نے دلیل دی، “ہائی کورٹ مجھے (دہلی حکومت) کو مرکزی حکومت کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کرنے کے لیے کیسے مجبور کر سکتا ہے ؟” انہوں نے مزید کہا کہ ہائی کورٹ نے دہلی حکومت کے اختیارات کا ازسرنو تعین کیا ہے ۔ اس نے اسے مرکزی حکومت کے ساتھ ایم او یو پر دستخط کرنے پر مجبور کیا ہے ۔
اس اسکیم میں حکومت ہند کے لیے سرمایہ خرچ کا 60 فیصد اور دہلی حکومت کے لیے 40 فیصد دینا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔