اب ہم کو آئینے سے نکل جانا چاہئے

   

بھاگوت اور بی جے پی میں دوری… جیل سے ڈرانے کی کوشش
امریکہ کو مودی کی ضرورت نہیں … مساجد اور مدارس نشانہ پر

رشیدالدین
ڈر اور خوف آخر ہوتا کیا ہے؟ عام آدمی اور بڑے لوگوں کا ڈر اور خوف الگ الگ انداز کا ہوتا ہے اور ہر کسی نے اسے دیکھا اور محسوس بھی کیا ہوگا لیکن جب حکومت اور سسٹم ہی ڈر جائے اور خوف کے سائے منڈلانے لگیں تو جو حالات پیدا ہوں گے ، وہ ملک کے سامنے ہیں۔ ووٹ چوری کے خلاف Gen-Z اور اپوزیشن کی تحریک نے نہ صرف حکومت بلکہ سنگھ پریوار میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ حکومت پر خطرات سے نمٹنے کیلئے امیت شاہ نے مورچہ سنبھال لیا تو دوسری طرف آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت بیرونی طاقتوں کا نام لے کر عوامی تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی قائدین کو جیل کی سزا اور ضمانت نہ ملنے کا خوف نہیں بلکہ 7 دن تک جیل میں رہنے کے بعد جب آسوتوش رنکا اور سورو داس کی رہائی عمل میں آئی تو ان کے حوصلے مزید بلند دکھائی دیئے ۔ برخلاف اس کے بی جے پی اور آر ایس ایس کو خوف لاحق ہوچکا ہے کہ عوام کے سڑکوں پر آنے سے کہیں اقتدار کو خطرہ لاحق نہ ہوجائے۔ جنتر منتر پر احتجاج پر پابندی کے بعد حکومت نے Gen-Z کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا اور کاکروچ قائدین کو جیل بھیج کر تحریک میں شامل نوجوانوں میں ڈر اور خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اب حالات بی جے پی ، آر ایس ایس اورحکومت کے کنٹرول سے باہر ہوچکے ہیں۔ دسہرہ کے موقع پر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے خطاب میں خوف صاف طور پر جھلک رہا تھا۔ بھاگوت نے اپنی تقریر میں نریندر مودی کا نام تک نہیں لیا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ عوام کے جذبات مخالف نریندر مودی ہیں۔ مودی نے لال قلعہ سے خطاب میں آر ایس ایس کی تعریف کرتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی این جی او قرار دیا تھا لیکن بھاگوت کیلئے حالات سازگار نہیں کہ وہ مودی کا نام لے کر ان کی تعریف کریں۔ سنگھ پریوار کے اندرونی حلقوں میں یہاں تک کہا جارہا ہے کہ آر ایس ایس نے مودی کے متبادل کی تلاش شروع کردی ہے۔ حکومت کو بچانے کی کوشش میں موہن بھاگوت نے عوامی تحریک کیلئے بیرونی طاقتوںکو ذمہ دار قرار دیا جو ملک کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ موہن بھاگوت نے یہاں تک کہہ دیا کہ اقتدار کی تبدیلی سے ملک کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے ۔ بنگلہ دیش ، نیپال ، فرانس اور البانیہ میں تبدیلی کی تحریکات کا حوالہ دیتے ہوئے بھاگوت نے Gen-Z کی تحریک کو سیاسی مقصد براری سے جوڑنے کی کوشش کی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب اقتدار کی تبدیلی سے بنیادی مسائل حل نہیں ہوسکتے تو 2014 میں بی جے پی نے کانگریس سے اقتدار حاصل کیوں کیا ؟ نریندر مودی نے اچھے دن ، سب کا ساتھ سب کا وکاس جیسے کئی سبز باغ دکھائے تھے جو پورے نہیں ہوئے۔ گزشتہ 12 برسوں میں سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعرے نے سب کا وشواس سب کا پریاس کا اضافہ کردیا گیا۔ دراصل موہن بھاگوت چاہتے ہیں کہ انتخابی سسٹم میں تبدیلی کی یہ تحریک کہیں حکومت کی تبدیلی کا رخ اختیار نہ کرلیں۔ اگر اقتدار کو بچانا ہے تو پھر گیانیش کمار سے ہمدردی کیوں؟ ان کی برطرفی یا استعفیٰ ہوجاتا ہے تو احتجاج اس مرحلہ تک نہیں پہنچتا کہ طاقت اور جیل کے ذریعہ دھمکانے کی کوشش کی جائے ۔ بی جے پی کا مقصد 2029 میں چوتھی مرتبہ اقتدار میں واپسی ہے اور اس کام میں گیانیش کمار کی مدد ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ووٹ چوری کے ثبوت منظر عام پر آنے کے باوجود گیانیش کمار کا تحفظ کیا جارہا ہے ۔ نیٹ امتحانی پرچہ جات کے افشاء کے بعد سے ہی آر ایس ایس اور بی جے پی میں دوریاں بڑھنے لگی ہیں۔ مودی حکومت کی مقبولیت میں گراوٹ کو دیکھتے ہوئے بی جے پی کی حلیف پارٹیاں بھی اپنے محفوظ مستقبل کی تلاش میں ہیں اور جب کبھی حالات مزید بگڑ جائیں گے تو وہ حکومت کو چھوڑ کر اپنا راستہ اختیار کرلیں گے۔ مودی حکومت فی الوقت چندرا بابو نائیڈو اور نتیش کمار کی بیساکھیوں کے سہارے چل رہی ہے۔ اپوزیشن کو کمزور کرنے توڑ جوڑ کا سہارا لیا گیا۔ مہاراشٹرا میں شرد پوار اور ادھو ٹھاکرے کی پارٹیوں میں پھوٹ پیدا کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کیا گیا ۔ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے 20 ارکان پارلیمنٹ کو انحراف پر مجبور کرتے ہوئے ایک غیر مسلمہ پارٹی این سی پی آئی میں شامل کرایا گیا۔ انحراف کرنے والے ارکان کو لالچ دیا گیا یا ان کی مجبوری تھی کہ اس کا خلاصہ ہونے لگا ہے۔ یوسف پٹھان کی بغاوت پر ہر کوئی حیرت میں تھا لیکن گجرات حکومت کے ایک فیصلہ نے انحراف کی سچائی بیان کردی۔ دراصل یوسف پٹھان کے قبضہ میں سرکاری اراضی موجود ہے جسے وہ حاصل کرنا چاہتے تھے ۔ ترنمول کانگریس سے لوک سبھا کیلئے منتخب ہونے کے بعد بلدی حکام نے اراضی حاصل کرنے کیلئے یوسف پٹھان کو نوٹس جاری کی۔ انہدامی کارروائی سے بچنے کیلئے انہوں نے ممتا بنرجی سے بغاوت کردی۔ 2024 سے جاری اراضی تنازعہ کو گجرات حکومت نے محض دو ماہ بعد حل کرتے ہوئے یوسف پٹھان کو انحراف کا تحفہ دیا ہے ۔ حکومت نے متنازعہ 978 مربع میٹر اراضی میں 500 مربع میٹر مفت حوالے کرنے اور 478 مربع میٹر کو 50 فیصد رعایتی شرح پر الاٹ کرنے کا اعلان کیا۔ اس طرح ممتا بنرجی سے بغاوت کے بدلے اراضی تحفہ میں حاصل ہوگئی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب یوسف پٹھان کا قبضہ غیر قانونی تھا تو پھر اراضی حوالے کیوں کی جارہی ہے ۔ اراضی کے معمولی ٹکڑے کے لئے یوسف پٹھان نے نہ صرف اصولوں سے سودا کرلیا بلکہ مسلمانوں میں موجود اپنی ساکھ کو ختم کردیا۔ سیاست میں قدم رکھتے ہوئے عوام کی خدمت کے دعوے کئے جاتے ہیں اور کرسی حاصل ہوتے ہی اپنا ذاتی مفاد سب کچھ بن جاتا ہے۔ یوسف پٹھان کے ساتھ بغاوت کرنے والے دوسرے 19 ارکان پارلیمنٹ کی بھی کچھ نہ کچھ مجبوریاں رہی ہوں گی، ورنہ یوں ہی کوئی بے وفا نہیں ہوتا۔
امریکہ کو کیا اب مودی کی ضرورت نہیں ہے ؟ نریندر مودی جو خود کو وشوا گرو کے طور پر عوام کے درمیان پیش کرتے ہیں، لیکن امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے انہیں بری طرح نظرانداز کردیا ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے موقع پر نریندر مودی کو ٹرمپ نے استعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی اہمیت کو تسلیم کیا تھا۔ شائد اب ٹرمپ کو ہندوستان کی ضرورت تو ہے لیکن مودی کی ضرورت نہیں ۔ ہندوستان کے کارپوریٹ اداروں ، سرمایہ کاری اور ہندوستانی مارکٹ کی ضرورت امریکہ کو ہے ، یہی وجہ ہے کہ امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے ہندوستان کا دورہ کیا لیکن نریندر مودی سے ملاقات نہیں کی۔ انہوں نے جام نگر میں ریلائنس کی ریفائنری کا معائنہ کیا جو دنیا کی سب سے بڑی ریفائنری ہے۔ ممبئی میں مکیش امبانی سے مارکو روبیو نے ملاقات کی اور وزیر خارجہ جئے شنکر ممبئی پہنچ کر ان سے ملے۔ امریکہ نے اپنے مفادات کے لئے غیر سرکاری کارپوریٹ ادارے سے ہاتھ ملایا ہے لیکن حکومت کی کوئی حصہ داری اس میں شامل نہیں تھی۔ دنیا کے قدیم ترین جمہوری ملک کے سکریٹری آف اسٹیٹ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہندوستان کے دورہ پر تھے لیکن ملک میں جب جمہوریت کے تحفظ کیلئے عوام سڑکوں پر ہیں تو امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ نے نریندر مودی سے ملاقات سے گریز کیا۔ شائد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ملک کے وزیر خارجہ ہندوستان کے دورہ پر آئے اور وزیراعظم سے ملاقات نہ کی ہو۔ دارالحکومت دہلی کی تاریخی ریس کورس مسجد ان دنوں فرقہ پرستوں کے نشانہ پر ہے ۔ مقامی بلدی حکام نے اس تاریخی مسجد کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہدام کی نوٹس دی ہے۔ 1977 کے سرکاری گزٹ میں مسجد درج اوقاف ہے لیکن حکومت اور بلدی حکام تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ مکمل ریکارڈ اور تاریخی اہمیت کے باوجود مسجد کا برقی اور پانی کا کنکشن ختم کردیا گیا تاکہ انہدام کے لئے مسلمانوں پر دباؤ بنایا جائے ۔ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں کئی مساجد اور دینی مدارس پر بلڈوزر چلائے جاچکے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اتر پردیش کے انتخابات میں کامیابی کیلئے بی جے پی ابھی سے فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے یہی وجہ ہے کہ یوگی ادتیہ ناتھ نے 80 فیصد بمقابلہ 20 فیصد کا نعرہ لگایا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ بابری مسجد پر مسلمانوں نے سمجھوتہ کرتے ہوئے فرقہ پرست طاقتوں کیلئے مساجد کے انہدام کی راہ ہموار کردی ہے۔ شکیل اعظمی نے کیا خوب کہا ہے ؎
پتھر وہ ہاتھ میں لئے نزدیک آگیا
اب ہم کو آئینے سے نکل جانا چاہئے