اتراکھنڈ میں وقف املاک پر شکنجہ، 4,500 جائیدادوں کی جانچ

,

   

نئی دہلی 6 مئی:(ایجنسیز)اتراکھنڈ میں وقف املاک کو لے کر ایک بڑا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ریاست کی ہزاروں جائیدادیں اب تک مرکزی حکومت کے ’’امید پورٹل‘‘ پر رجسٹر نہیں ہو سکیں۔ دھامی حکومت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے غیر رجسٹرڈ جائیدادوں کے اراضی ریکارڈ کی جانچ شروع کر دی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں کل 7,288 جائیدادیں درج ہیں، جن میں 2,105 وقف املاک اور 5,183 دیگر مذہبی و تعلیمی جائیدادیں شامل ہیں۔ ان میں مساجد، مدارس، قبرستان، عیدگاہیں، مزارات، امام بارگاہیں اور اسکول شامل ہیں۔ تاہم اب تک صرف 1,597 جائیدادیں ہی امید پورٹل پر مکمل طور پر منظور اور رجسٹر کی جا سکی ہیں۔ حکومت کے مطابق 4,632 جائیدادوں کے ذمہ داران نے اب تک پورٹل پر کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔ ان میں 3,791 مساجد، مدارس، مزارات اور عیدگاہیں جبکہ 841 وقف املاک شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو شبہ ہے کہ ان میں سے کئی جائیدادیں سرکاری اراضی پر ناجائز قبضے کے بعد وقف بورڈ کے تحت درج کی گئی تھیں۔اقلیتی امور کے خصوصی سکریٹری ڈاکٹر پراگ مدھوکر دھکاٹے نے واضح کیا ہے کہ 5 جون کے بعد غیر رجسٹرڈ جائیدادوں کے خلاف براہ راست کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تمام جائیدادوں کو غیر قانونی قبضہ تصور کرتے ہوئے حکومت اپنے قبضے میں لے سکتی ہے۔چیف منسٹر پشکر سنگھ دھامی نے بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے تمام متعلقہ افراد کو کافی وقت اور مواقع فراہم کیے، لیکن اب قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
غازی آباد میں ہزاروں پاسپورٹ التوا کا شکار
غازی آباد 6 مئی:(ایجنسیز) غازی آباد ریجنل پاسپورٹ آفس میں ہزاروں افراد کے پاسپورٹ تاریخِ پیدائش کے تضاد کی وجہ سے پھنس گئے ہیں۔ زیر التواء درخواستوں کے جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہیکہ بڑی تعداد میں درخواست دہندگان نے ابتدا میں ایک تاریخِ پیدائش کے ساتھ پاسپورٹ حاصل کیا، لیکن بعد میں آدھار، تعلیمی اسناد یا دیگر سرکاری دستاویزات میں اپنی تاریخِ پیدائش تبدیل کرا لی۔ اب یہی فرق پاسپورٹ کی تصدیق اور تجدید میں بڑی رکاوٹ بن گیا ہے۔
محکمہ ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران سب سے زیادہ اعتراضات تاریخِ پیدائش میں تبدیلی کے معاملات پر سامنے آئے ہیں۔ قواعد کے مطابق پاسپورٹ میں تاریخِ پیدائش کی تبدیلی ایک پیچیدہ عمل ہے، جس کے لیے مجسٹریٹ کے حکم یا مجاز ادارے کی جانب سے جاری کردہ مستند ثبوت پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔ محض آدھار یا دیگر دستاویزات میں ترمیم کرانے سے پاسپورٹ میں خودکار طور پر تبدیلی منظور نہیں کی جاتی۔ اسی سبب متعدد افراد کو ملازمت، بیرونِ ملک سفر اور ویزا کارروائی میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاسپورٹ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں تمام دستاویزات کی باریک بینی سے جانچ کی جاتی ہے اور ضابطوں کے مطابق فیصلہ لیا جاتا ہے۔ اگر کاغذات نامکمل یا مشکوک ہوں تو درخواستیں زیر التواء￿ رکھی جا سکتی ہیں یا مسترد بھی کی جا سکتی ہیں۔