اراضی کا سروے، کسانوں سے تعاون کی اپیل

   

حکومتی رہنما خطوط کے مطابق شفافیت کے ساتھ سروے کا کام کرنے عہدیداروں کو کلکٹر کی ہدایت
نظام آباد۔ 9 اکتوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع کلکٹر نظام آباد ایلا ترپاٹھی نے بتایا کہ ریاستی حکومت کسانوں اور اراضی مالکان کے مفادات کے تحفظ اور مستقبل میں زمینوں کی حدود سے متعلق تنازعات کی روک تھام کے مقصد سے اراضی کی دوبارہ سروے کروا رہی ہے۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ اس عمل میں مکمل تعاون کریں۔ ضلع کلکٹر نے سالور منڈل کے موضع فتح پور میں جاری اراضی کی دوبارہ سروے کے کاموں کا ایڈیشنل کلکٹر وی بھوجنگ راؤ کے ہمراہ معائنہ کیا۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی اور روور کی مدد سے انجام دیے جانے والے سروے کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ سروے و اراضی ریکارڈ کے عہدیداروں سے تفصیلات حاصل کیں۔ اس موقع پر انہوں نے ہدایت دی کہ حکومتی رہنما خطوط اور مقررہ قواعد کے مطابق سروے کا کام مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دیا جائے اور کسانوں و پٹہ داروں کو کسی قسم کی دشواری پیش نہ آنے دی جائے۔ کلکٹر ایلا ترپاھٹی نے کہا کہ روزانہ اوسطاً 30 ایکڑ اراضی کا سروے کرتے ہوئے اس عمل کو تیزی سے مکمل کیا جائے۔ سروے کے دوران میدانی سطح پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا مسئلہ پیش آنے کی صورت میں فوری طور پر ان کے علم میں لایا جائے۔ انہوں نے خصوصی طور پر ہدایت دی کہ سروے شروع کرنے سے قبل متعلقہ کسانوں کو لازماً اطلاع دی جائے اور ان کی موجودگی میں ہی سروے انجام دیا جائے، تاکہ زمین کی حدود کے اندراج میں کسی قسم کی غلطی نہ ہو۔ کلکٹر نے بتایا کہ سالور منڈل میں پہلے مرحلے کے تحت تین مواضعات میں اراضی کی دوبارہ سروے جاری ہے، جبکہ بودھن ریونیو ڈویژن کے پوٹھنگل، رینجل اور دیگر منڈلوں میں اب تک تقریباً 3 ہزار ایکڑ اراضی کا سروے مکمل کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دوبارہ سروے سے مستقبل میں زمینوں کی حدود سے متعلق اختلافات اور اراضی تنازعات کا خاتمہ ہوگا اور زمینوں سے متعلق مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کسانوں اور اراضی مالکان کو مشورہ دیا کہ سروے کے بارے میں کسی قسم کے شبہات یا سوالات کی صورت میں متعلقہ گرام پنچایت عہدیداروں سے رجوع کریں۔ اس موقع پر بودھن آر ڈی او وجئے کماری، محکمہ سروے و اراضی ریکارڈ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سرینواس راؤ، مقامی عہدیداروں، عوامی نمائندوں اور کسانوں نے شرکت کی۔