بی ایل اوز کو ڈمی اردو فارمس کی فراہمی، 3 ریاستوںکی تفصیلات طلب
حیدرآباد 30 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیکورٹ کے جسٹس بی وجئے سین ریڈی نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے خواہش کی ہے کہ فہرست رائے دہندگان پر خصوصی نظرثانی سے متعلق SIR مہم کے دوران اُردو میں انومریشن فارمس کی سربراہی پر غور کرے۔ عدالت نے کہاکہ ایسے اسمبلی حلقہ جات جہاں اردو بولنے والے افراد کی تعداد 20 فیصد سے زائد ہے وہاں اردو میں فارمس کی سربراہی کا جائزہ لیا جائے۔ جسٹس وجئے سین ریڈی نے کہاکہ عام طور پر عدالتیں الیکشن کمیشن کے فیصلوں میں مداخلت نہیں کرتیں تاہم اُنھوں نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے جاننا چاہا کہ اِس بارے میں کیا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آسام، بہار اور مغربی بنگال میں اردو فارمس کی سربراہی کے بارے میں تفصیلات طلب کی گئیں۔ جسٹس وجئے سین ریڈی کریم نگر سے تعلق رکھنے والے ایک سماجی کارکن کی درخواست کی سماعت کررہے تھے جس میں تلگو کے ساتھ اردو میں فارمس کی سربراہی کی اپیل کی گئی۔ سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے وکیل اویناش دیسائی نے اِس سلسلہ میں الیکشن کمیشن سے ہدایات حاصل کرنے کے لئے مہلت مانگی۔ اُنھوں نے عدالت کو بتایا کہ تلگو چونکہ تلنگانہ کی سرکاری زبان ہے لہذا فارمس تلگو زبان میں تیار کئے گئے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے علاقوں میں رائے دہندوں کو انگلش میں فارمس سربراہ کئے جارہے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ چیف الیکٹورل آفیسر کے اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا تھا کہ حیدرآباد ضلع میں رائے دہندوں کی سہولت کے لئے انگریزی میں فارمس شائع کئے جائیں۔ چونکہ حیدرآباد میں اردو بولنے والے رائے دہندوں کی قابل لحاظ تعداد ہے لہذا بوتھ لیول آفیسرس کو ہدایت دی گئی کہ وہ فارمس کی خانہ پُری کے لئے 5 تا 10 اردو کے فارمس اپنے ساتھ رکھیں۔ درخواست گذار کے وکیل نے کہاکہ رائے دہندوں کی درخواست پر اردو میں ڈمی فارمس کی فراہمی دستوری حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہاکہ 3 زبانوں میں فارمس کی تیاری کی ہدایت سے ریاستی خزانہ پر بوجھ پڑسکتا ہے۔ درخواست گذار کے وکیل نے کہاکہ اپنی زبان میں فارم حاصل کرنا رائے دہندوں کا حق ہے۔ جسٹس وجئے سین ریڈی نے اردو میں فارمس کی اجرائی کا جائزہ لینے کی ہدایت دیتے ہوئے آئندہ سماعت ایک ہفتہ بعد مقرر کی ہے۔V/1