ارکان اسمبلی کو خریدنے کی کوشش کا الزام

   

رشوت کی پیشکش کرنے والے ایجنٹس کو تحویل میں دینے کی درخواست مسترد
حیدرآباد۔/27 اکٹوبر، ( سیاست نیوز)تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے 4 ارکان اسمبلی کو خریدنے کی ناکام کوشش میں ملوث بی جے پی کے تین مبینہ ایجنٹس کو آج معین آباد پولیس نے خصوصی جج انسداد رشوت ستانی کی رہائش گاہ پر پیش کیا لیکن پولیس کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اے سی بی جج نے ریمانڈ مسترد کردیا۔ ہریانہ فرید آباد سے تعلق رکھنے والے راما چندرا بھارتی، تروپتی کے پجاری ڈی سمہیاجی اور شہر کے تاجر نند کمار جنہیں کل سائبرآباد پولیس نے فارم ہاوز پر ارکان اسمبلی کو رشوت دینے کی کوشش پر گرفتار کیا تھا آج سخت سیکوریٹی میںاینٹی کرپشن کورٹ کے خصوصی جج کی رہائش گاہ پر پیش کیا گیا۔ جج نے پولیس سے سوال کیا کہ ایف آئی آر میں انسداد رشوت ستانی ایکٹ کی دفعہ 171-B اور 171-Eلاگو کیا گیا ہے اور یہ دائرہ اختیار صرف اے سی بی کو ہے پولیس کو نہیں۔اتنا ہی نہیں رشوت کے الزام کے باوجود نقد رقم کی ضبطی نہ ہونے پر جج نے سوال کیا ۔ اس بنیاد پر پولیس کی جانب سے تینوں ملزمین کے ریمانڈ کی درخواست کو قبول کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد پولیس پس و پیش کا شکار ہوگئی۔سمجھا جاتا ہے کہ ان احکام کے بعد سائبر آباد پولیس کل اینٹی کرپشن بیورو کو مقدمہ منتقل کرنے گذارش کریگی۔ واضح رہے کہ 26 اکٹوبر کو معین آباد پولیس نے تانڈور رکن اسمبلی پائلٹ روہت ریڈی کی شکایت پر راما چندرا عرف ستیش شرما، نند کمار اور سمہیاجی کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 120(B) مجرمانہ سازش و انسداد رشوت ستانی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ۔ رکن اسمبلی نے تحریری شکایت میں بتایا کہ مذکورہ افراد نے ان سے رابطہ کرکے پیشکش کی کہ اگر وہ ٹی آر ایس چھوڑ کر بی جے پی ٹکٹ پر اگلے انتخابات میں لیں تو انہیں 100 کروڑ نقد رقم، مرکزی سیول کنٹراکٹس اور دیگر عہدے دئے جائیں گے۔ بصورت دیگر ای ڈی اور سی بی آئی سے مقدمات درج کئے جائیں گے۔26 اکٹوبر کو تین افراد نے فون پر کہا کہ ان کے فارم ہاوز عزیز نگر معین آباد پہنچنے پر 50 کروڑ روپئے حوالے کئے جائیں گے۔ روہت ریڈی نے بتایا کہ بی جے پی کی یہ کوشش غیر دستوری اور غیر اخلاقی ہے لہذا اینٹی کرپشن قوانین کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ب