اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی نہ روکی جائے: کملاہیریس

   

واشنگٹن: امریکی صدارتی امیدوار اور موجودہ نائب صدر کملاہیریس امریکی اتحادی اسرائیل کیلئے اسلحہ فراہمی پر پابندی کی حمایت نہیں کرتی ہیں۔ یہ بات جمعرات کے روز ان کے ایک اعلیٰ معاون نے کہی ہے۔کملاہیریس جب سے ماہ جولائی کے وسط سے ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے جو بائیڈن کی جگہ پر صدارتی امیدوار بنی ہیں ان کے حوالے سے اسرائیل کے حق میں آنے والے ٹھوس اور اہم بیانات میں سے ایک ہے۔ان کا یہ بیان اس واقعے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جب ان کی تین ہفتوں پر محیط انتخابی مہم کے دوران غزہ جنگ کے مخالفین اور فلسطینیوں کے حامیوں نے انہیں ایک ریلی میں گھیر لیا اور کے ساتھ نامناسب انداز اختیار کیا۔ کملاہیریس نے ڈیٹرائٹ، مشی گن میں غزہ کی جنگ کے مخالفین کے ساتھ ریلی کے بعد ملاقات کی اور کہا میں نے اسرائیل کے ساتھ اسلحہ پابندی کا ایشو اٹھایا ہے۔تاہم ان کے قومی سلامتی کیلئے مشیر فلگورڈن نے ‘ایکس’ پر کہا ہے ‘کملاہیریس اسرائیل کو اسلحہ فراہمی پر پابندی کی حمایت نہیں کرتی ہیں۔’ مشیر برائے سلامتی نے کہا ‘نائب صدر بڑی واضح ہیں کہ ‘اسرائیل ایران اور ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کے ساتھ لڑنے اور اپنے دفاع کا پورا حق رکھتا ہے۔’واضح رہے کملاہیریس پر ڈیمو کریٹس کی ایک بڑی تعداد کا دباؤ موجود ہے کہ وہ جوبائیدن کی اسرائیل کھلی حمایت کی پالیسی کو تبدیل کریں۔ یہ ایشو مشی گن میں بطور خاص اہم ہے۔جہاں عرب ووٹروں کی بھی بڑی تعداد موجود ہیں۔ مشی گن کے لوگ فلسطینیوں کے خلاف جنگ کے سخت مخالف ہیں۔ریلی میں جب کملاہیریس کو شرکا کی طرف سے بار بار تقریر کو روکا تو ہیرس نے کہا ‘ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ٹرمپ جیت جائیں تو آپ سیدھے طریقے سے بات کریں۔ یہ کہتے ہوئے کملا کی آواز یہ کہتے ہوئے اونچی ہوتی گئی۔ احتجاجی شرکا ئے ریلی سے مخاطب تھیںکیونکہ کملاہیریس کا اکثریت کے ان ووٹوں کی بھی بہت ضرورت ہے، جو پارٹی میں اکثریت میں اور اسرائیل کی حمایت کیلئے سرگرم ہیں۔ا نہیں بعض اوقات اسرائیل کے حق میں پالیسی کی وجہ سے صدر جو بائیڈن سے زیادہ تنقید سننا پڑتی ہے۔