ریکارڈ 77.7 فیصد ووٹنگ کے نتائج میںلیکوڈ پارٹی کو معمولی برتری، عرب جماعتوں کی 19 نشستیں فیصلہ کن
یروشلم / تل ابیب ، 28 اکتوبر (ایجنسیز) اسرائیل کے عام انتخابات کے بعد وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے اہم حریف سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کے درمیان اقتدار کی کشمکش تیز ہوگئی ہے۔ ہندوستان ٹائمز کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ووٹوں کی گنتی کے دوران نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی نے آئزنکوٹ کی یاشر پارٹی پر معمولی برتری حاصل کی ہے، تاہم کسی بھی سیاسی اتحاد کو پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں، اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں اور عرب جماعتوں کو 19 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمنٹ ’کنیسٹ‘ میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشستوں کی حمایت ضروری ہے۔ انتخابی نتائج کے تناظر میں نیتن یاہو نے عرب جماعتوں پر انتخابی عمل کو متاثر کرنے کا الزام عائد کیا، جبکہ جوائنٹ لسٹ نے ان الزامات کو مسترد کردیا۔ عرب جماعتوں کی نشستیں حکومت سازی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوسکتی ہیں، لیکن ان جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے معاملے پر دونوں بڑے سیاسی گروپوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اپوزیشن لیڈر آئزنکوٹ ، نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے مختلف جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسرائیل میں یہ انتخابات اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد پہلے عام انتخابات ہیں۔ غزہ کی جنگ، قومی سلامتی، ایران کے ساتھ کشیدگی اور حکومت کی پالیسیوں پر عوامی ردعمل انتخابی مہم کے اہم موضوعات رہے۔ ووٹنگ کا تناسب 77.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جو دو دہائیوں سے زیادہ عرصے میں بلند ترین شرحوں میں شامل ہے۔ حتمی نتائج کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں گے اور حکومت بنانے کے قابل امیدوار کو نامزد کریں گے۔ تاہم، موجودہ صورت حال میں اتحادی جماعتوں کے درمیان مذاکرات طویل ہونے اور سیاسی تعطل برقرار رہنے کا امکان ہے۔ اگر کوئی فریق 61 نشستوں کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسرائیل میں نئے انتخابات کا راستہ بھی کھل سکتا ہے۔