اسمبلی بجٹ سیشن ، گورنر کا خطبہ …جھلکیاں

   

l ایوان میں پہلی مرتبہ خاتون مارشلس کی موجودگی l ہر پارٹی اپنے رنگ میں l جیون ریڈی اور مہیش کمار گوڑ کا کویتا سے مصافحہ l گورنر کا سرخ قالین استقبال l 15 صفحات 25 منٹ میں مکمل lگورنر نے بی آر ایس ارکان کو حیرت میں ڈال دیا l تلگو اور ٹامل اشعار l جئے ہند اور جئے تلنگانہ
حیدرآباد ۔ 8 ۔ فروری(سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی اور کونسل کا بجٹ اجلاس کا گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن کے خطبہ سے آج آغاز ہوا۔ تلنگانہ میں کانگریس حکومت کی تشکیل کے بعد یہ پہلا بجٹ اجلاس ہے جس میں حکومت کی جانب سے عبوری بجٹ پیش کیا جائے گا۔ بجٹ سیشن کے موقع پر اسمبلی کے اطراف اور ایوان میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے تھے۔ اپوزیشن بی آر ایس کی جانب سے کسی بھی احتجاج سے نمٹنے کیلئے زائد پولیس فورس کو اسمبلی کے باہر تعینات کیا گیا تھا۔ یوں تو سیشن کا آغاز 11.30 بجے دن ہوا لیکن سیکوریٹی حکام نے باغ عامہ میں صبح سے ہی عوام کا داخلہ روک دیا تھا۔ ٭٭ ایوان اسمبلی میں پہلی مرتبہ مارشلس کی کثیر تعداد کو تعینات کیا گیا تھا۔ اسمبلی اسٹاف کے لئے موجود گیلری مارشلس سے بھر چکی تھی۔ عام طور پر ایوان میں کسی گڑبڑ کی صورت میں مارشلس کو ایوان میں طلب کیا جاتا ہے لیکن اجلاس کے پہلے دن مارشلس ایوان میں موجود تھے ۔ خاص بات یہ رہی کہ خاتون مارشلس کی قابل لحاظ تعداد کو ایوان میں دیکھا گیا۔
ll صبح 11 بجے سے ایوان میں ارکان کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا اور وزراء میں سب سے پہلے پونم پربھاکر اور تملا ناگیشور راؤ ایوان میں پہنچے۔ انہوں نے کانگریس کے ساتھی ارکان سے ملاقات کی۔
ll سیاسی پارٹیوں کے قائدین اپنی اپنی پارٹی کے رنگ میں دیکھے گئے۔ کانگریس ، بی آر ایس اور بی جے پی ارکان اپنی اپنی پارٹی کا کھنڈوا پہنے ہوئے تھے۔ عام طور پر چیف منسٹر پارٹی کا کھنڈوا نہیں پہنتے ہیں لیکن ریونت ریڈی کانگریس کا کھنڈوا پہنے ہوئے تھے۔
ll بی آر ایس کے ارکان 11.20 بجے مدھو سدن چاری اور سری ہری کی قیادت میں ایوان میں داخل ہوئے۔ تمام ارکان گلابی کھنڈوا پہنے ہوئے تھے۔
ll کانگریس کے ارکان کونسل جیون ریڈی اور مہیش کمار گوڑ نے اپوزیشن کی نشستوں تک پہنچ کر بی آر ایس ارکان سے ملاقات کی ۔ مہیش کمار گوڑ قانون ساز کونسل کیلئے منتخب ہونے کے بعد پہلی مرتبہ ایوان میں پہنچے تھے اور بی آر ایس ارکان ہریش راؤ اور کویتا نے مصافحہ کرتے ہوئے مبارکباد پیش کی۔ سینئر رکن جیون ریڈی نے کافی دیر تک ہریش راؤ سے بات چیت کی۔
ll گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن 11.25 بجے اسمبلی پہنچیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی ، صدرنشین قانون ساز کونسل سکھیندر ریڈی ، اسپیکر اسمبلی پرساد کمار ، وزیر امور مقننہ سریدھر بابو اور سکریٹری لیجسلیچر نرسمہا چاریلو نے ان کا استقبال کیا۔
ll گورنر کو روایتی انداز میں ایوان اسمبلی لایا گیا اور سرخ قالین پر ان کا استقبال ہوا۔ گورنر کے آگے اسپیکر اور صدرنشین قانون ساز کونسل چل رہے تھے جبکہ گورنر کے ساتھ چیف منسٹر ریونت ریڈی تھے۔ ایوان کے وسط میں پہنچتے ہی چیف منسٹر اپنی نشست پر چلے گئے اور گورنر پوڈیم پر پہنچ گئیں۔
ll گورنر ڈاکٹر سوندرا راجن نے آج بی آر ایس ارکان کو اس وقت حیرت میں ڈال دیا جب انہوں نے ایوان میں اپوزیشن کی جانب مڑ کر انہیں نمستے کیا۔ بی آر ایس دورحکومت میں حکومت اور گورنر کے درمیان کشیدہ صورتحال تھی اور بی آر ایس کی جانب سے گورنر کے خطبہ کے بائیکاٹ کی اطلاعات تھی۔ گورنر نے ایوان کے وسط میں پہنچتے ہی اپوزیشن نشستوں کی طرف مڑ کر نمستے کیا جس پر بی آر ایس ارکان نے حیرت کے ساتھ جواب دیا۔
ll قومی ترانہ سے ایوان کی کارروائی شروع ہوئی اور گورنر کے خطبہ کے فوری بعد قومی ترانہ پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
ll گورنر ڈاکٹر سوندرا راجن نے 15 صفحات پر مشتمل اپنا خطبہ 25 منٹ میں مکمل کرلیا اور خطبہ کے دوران برسر اقتدار پارٹی کے ارکان وقفہ وقفہ سے میزیں تھپتھپاکر خیرمقدم کر رہے تھے۔ بعض مواقع پر اپوزیشن نے حکومت پر وعدوں کی تکمیل میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے آوازیں کیں۔ ٹھیک 12 بجے دن گورنر سوندرا راجن ایوان سے روانہ ہوگئیں۔
ll گورنر نے خطبہ میں مشہور تلگو شاعر کالوجی نارائن راؤ کے علاوہ ایک ٹامل نظم کا کچھ حصہ پڑھا۔ انہوں نے خطبہ کا اختتام جئے ہند اور جئے تلنگانہ پر کیا۔ 1