نیویارک : اقوام متحدہ نے عراق میں جاری سیاسی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ اس کے حل کے لیے کردار ادا کریں جبکہ شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر نے پارلیمان تحلیل اور نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تیل کی دولت سے مالامال ملک میں انتخابات کو 10 ماہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک کوئی حکومت بنائی جا سکی اور نہ صدر اور وزیراعظم کو منتخب کیا جا سکا۔یو این اسسٹنس مشن فار عراق کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے ’ہم تمام فریقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے متحرک ہوں اور کسی حل پر اتفاق کر لیں۔‘رپورٹ کے مطابق شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر، جن کے گروپ نے پچھلے سال ہونے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی، نے چھ روز سے میں پارلیمان میں دھرنا دے رکھا ہے۔ مقتدیٰ الصدر کا گروپ وزارت عظمٰی کے لیے نامزد کی گئی شخصیت کی مخالفت کر رہا ہے، جو کہ حریف شیعہ گروپ سے تعلق رکھتے اور ایران کے حمایت یافتہ ہیں۔دوسری جانب سبکدوش ہونے والے وزیراعظم مصطفٰی الکاظمی نے تمام فریقوں سے اپیل میں مذاکرات کی میز پر آنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے صدر برہم صالح سے بات بھی کی۔عراق کی نیوز ایجنسی کے مطابق بات چیت میں دونوں نے ملک کی سلامتی و استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔یو این مشن کا یہ بھی کہنا ہے ’تمام جماعتوں کے درمیان بامعنی مذاکرات کی ضرورت جتنی آج ہے پہلے کبھی نہیں تھی کیونکہ حالیہ واقعات سیاسی کشیدگی کو مزید خرابی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔