اسمبلی حلقہ خیریت آباد میں ضمنی انتخاب کیلئے اُلٹی گنتی شروع

   

SIR کے بعد پہلا سیاسی امتحان ۔ ایک لاکھ سے زائد ووٹ حذف ہوجانے کا خدشہ
حیدرآباد : /24 ستمبر (سیاست نیوز) سپریم کو رٹ کی جانب سے ایم ایل اے ڈی ناگیندر کی نااہلی کے معالے میں شدید جھٹکا لگنے کے بعد اسمبلی حلقہ خیریت آباد میں ضمنی انتخاب کا انعقاد تقریباً ناگزیر نظر آرہا ہے ۔ اس سیاسی موڑ نے تلنگانہ کی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا کردی ہے ۔ بی آر ایس اپنے پرانے گڑھ پر تسلط برقرار رکھنے کی کوشش میں ہے جبکہ کانگریس اور بی جے پی اپنا پرچم لہرانے کیلئے پرعزم ہیں ۔ اگر اسمبلی حلقہ خیریت آباد میں ضمنی انتخاب ہوتا ہے تو یہ ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرثانی مہم (SIR) کے بعد ریاست میں ہونے والا پہلا انتخاب ہوگا ۔ اس وقت تمام سیاسی پارٹیاں شدید تناؤ کا شکار ہیں ۔ کیونکہ SIR عملکے بعد فائنل ووٹر لسٹ کی شکل مکمل طو ر پر بدلنے کا امکان ہے ۔ SIR کے آغاز سے قبل اسمبلی حلقہ خیریت آباد میں جملہ 2,96,036 لاکھ ووٹرس درج تھے ۔ سیاسی حلقوں اور خود ڈی ناگیندر کا الزام ہے کہ ڈپلیکیٹ ، فوت شدہ ، اور منتقل شدہ ووٹرس کی چھانٹ کے نام پر ایک لاکھ سے زائد ووٹرس لسٹ سے غائب ہوچکے ہیں ۔ جمعرات کو سپریم کو رٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈی ناگیندر نے سخت تشویش ظاہر کی کہ اتنی بڑی تعداد میں ووٹوں کی کٹوتی انتخابی نتائج کو براہ راست متاثر کرسکتی ہے ۔ زمینی سطح پر سیاسی جماعتوں کی غیر فعال کارکردگی کے الزامات کے بعد اب اسمبلی حلقہ خیریت آباد کے ممکنہ ضمنی انتخاب کے پیش نظر کانگر یس ۔ بی آر ایس اور بی جے پی تینوں اہم جماعتیں مکمل طور پر چوکس ہوگئی ہیں ۔ 2023 ء کے اسمبلی انتخابات میں ڈی ناگیندر نے بی آر ایس کے ٹکٹ پر صرف 22,010 ووٹوں کی اکثر یت سے کامیابی حاصل کی تھی ۔ اس بار بھی کانگریس ۔ بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان زبردست سہ رخی مقابلہ یقینی نظر آرہا ہے ۔ اب تمام نظریں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کی جانے والی ترمیم شدہ فائنل ووٹر لسٹ پر ٹکی ہوئی ہیں کہ کس پارٹی کو اس کا فائدہ ہوگا اور کس کو نقصان ۔ 2