اسرو نے پھر تاریخ رقم کی، خلائی مہمات کیلئے ا ہم ا قدام
نئی دہلی :ہندوستانی خلائی تحقیقی تنظیم (اسرو) نے جمعرات کو ایک بار پھر سے تاریخ رقم کر دی ہے۔ اسرو نے اسپیڈیکس (اسپیس ڈاکنگ ایکسرسائز) مشن کے تحت دو سیٹیلائٹ کو کامیابی کے ساتھ ڈاک کرنے کا عمل پورا کر لیا۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان امریکہ، روس اور چین کے بعد یہ کارنامہ انجام دینے والا چوتھا ملک بن گیا ہے۔ اسرو کی اس کامیابی پر پورے ملک میں خوشی کی لہر ہے اور سیاسی و سماجی رہنماؤں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے مبارک باد دی ہے۔اسرو نے اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے اسے تاریخی لمحہ بتایا۔ اسرو نے ایکس پر لکھا کہ ہندوستان نے خلائی تاریخ میں اپنا نام درج کر لیا ہے۔ سو پربھات بھارت، اسرو کے اسیپڈیکس مشن نے ڈاکنگ میں تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔اسرو کی اس کامیابی پر وزیر اعظم نریندر مودی نے مبارک باد پیش کی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کیے گئے اپنے ایک پوسٹ میں لکھا کہ سیٹلائٹس کی خلائی ڈاکنگ کے کامیاب مظاہرہ کے لیے اسرو کے سائنس دانوں اور مکمل خلائی برادری کو مبارک باد۔ یہ آنے والے برسوں میں ہندوستان کے اہم اور کثیرالمقاصد خلائی مہمات کے لیے ایک بڑا قدم ہے۔مشن کے تحت پہلے دونوں سیٹیلائٹ کو 20 کلومیٹر کی دوری پر رکھا گیا۔ اس کے بعد چیسر سیٹلائٹ نے ٹارگیٹ سیٹلائٹ کے پاس جاکر 5 کلومیٹر، 15 کلومیٹر، 500 میٹر اور 225 میٹر، 15 میٹر اور آخر میں 3 میٹر تک کی دوری طے کی۔ اس کے بعد دونوں سیٹلائٹ کو ایک ساتھ جوڑا گیا۔ ڈاکنگ کے بعد سیٹلائٹس کے درمیان بجلی کی منتقلی کا مظاہرہ کیا گیا پھر دونوں کو الگ کرکے ان کے متعلق پیلوڈ آپریشن شروع کیا گیا۔واضح ہو کہ اس سے پہلے اسرو نے دو مرتبہ ڈاکنگ کی کوشش کی تھی لیکن تکنیکی مسائل کی وجہ سے 7 اور 9 جنوری کو یہ ممکن نہیں ہو سکا تھا۔ 12 جنوری کو اسرو نے سیٹلائٹ کو 15 میٹر اور 3 میٹر کی دوری تک لانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اسرو نے کہا تھا 15 میٹر اور 3 میٹر تک کی دوری کو کامیابی سے طے کیا گیا ہے۔ اس کے بعد سیٹلائٹ کو محفوظ دوری پر لے جایا گیا۔ ڈاٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد ڈاکنگ عمل پورا کیا جائے گا۔بتایا جاتا ہے کہ ڈاکنگ تکنیک کی ضرورت چندریان۔4 جیسے مشن میں ہوگی جس میں چاند سے نمونہ لاکر زمین پر واپس لانا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستان کے خلائی اسٹیشن ‘بھارتیہ خلائی اسٹیشن’ کے قیام کے لیے یہ تکنیک کافی اہم ثابت ہوگی جسے 2028 تک لانچ کرنے کا منصوبہ ہے۔